International بین الاقوامی خبریں

انعامی مسابقہ بعنوان عقیدۂ توحید

زیر نگرانی ضلعی جمعیت اہل حدیث روپندیہی بحسن وخوبی اختتام پذیر ۔


روپندیہی (پریس ریلیز) اسلام میں مسابقہ کی اہمیت اور اس کا مقام و مرتبہ بالکل عیاں ہےعلمی مقابلہ طلبہ و طالبات کی خوابیده صلاحیتوں کو بیدار کرنے کے بہترین ذرائع میں سے ایک ہے ۔ ایسے مسابقے طلبہ و طالبات کے اندر خود احتسابی کی روح پھونکتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ خود اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم مختلف قسم کے مقابلے منعقد کرنے کی اجازت مرحمت فرمایا کرتے اور انہیں بنظر تحسین دیکھا کرتے تھے اسی چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے ضلع روپندیہی میں واقع تمام مدارس اسلامیہ کے طلبہ وطالبات کے مابین انعامی مسابقہ ” عقیدۂ توحید ” تاریخ 2/دسمبر 2023 بروز سنیچر ضلعی جمعیت اہل حدیث روپندیہی نیپال کی جانب سے مرکز التعلیم والدعوة الإسلامية لمبنی سانسکرتک نگرپالیکا وارڈ نمبر ٦/تنہوا میں منعقد ہوا جس میں ضلع کے اکثر مدارسِ دینیہ کے طلبہ وطالبات نے شرکت کیا
زمرۂ اول میں کل ٢٨/ طلبہ وطالبات نے شرکت کی پروگرام وقت مقررہ سے کچھ تاخیر تقريباً 09:15 صبح سے مسابقہ شروع ہوا جس میں فضيلة الشيخ/مشتاق أحمد سلفی صاحب نے بحیثیتِ ناظم اپنا فریضہ انجام دیا اور فضيلة الشيخ/مجيب الدين مدنى. فضيلة الشيخ عبدالمعبودمدنى اور فضيلة الشيخ/نياز أحمد مدنی حفظہم اللہ نے حکم کے فرائض انجام دیئے. اور دوسرے گروپ کے نظامت کی ذمہ داری فضيلة الشيخ شجرالدين اثرى صاحب نے نبھائی جس میں حکم کے فرائض فضيلة الشيخ إنعام الله مدنى. فضيلة الشيخ جمال احمد مدنى اور نور عالم سلفی حفظہم اللہ نے انجام دیا اور بحسن و خوبی دوسرا گروپ 12:40 پر ختم ہوا اس کے بعد نماز ظہر ادا کی گئی پھر جملہ مشارکین طلبہ و طالبات۔ مہمانان گرامی اور تمام مشارکین نے ظہرانہ کھانا تناول فرمایا پھر 02:15 بجے اختتامی وانعامی پروگرام کا آغاز ہوا۔ جس کی صدارت فضيلة الشيخ عبدالحی بن محمد حنیف المدنی امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال اور نظامت فضيلة الشيخ فضیل احمد مدنی مسؤل مرکز التحفیظ للقرآن الکریم بھینسہیا نے کی پروگرام کا آغاز عزیزم حافظ دلشاد احمد طالب مرکز التعلیم والدعوہ الاسلامیہ تنہوا کے پرشوز تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا حمد پاک عزیزہ ناجیہ خاتون مدرسہ عربیہ بحر العلوم ترکلہا نے پیش کی ۔نعت نبی عزیزم شفیق اللہ مرکز تحفیظ القرآن الکریم بھینسہیا نے گنگنایا اور ترانہ ،،اہل حدیث ہیں ہم،، کوعزیزہ نصرت جہاں مدرسہ سمیہ للبنات لمبنی سانسکرتک نگرپالیکا وارڈ نمبر ٦/تنہوا نے پیش کیا ۔
اس اہم علمی مسابقہ میں اللہ تعالیٰ کی توفیق پھر طلبہ و طالبات کی انتھک کوششوں سے پوزیشن حاصل کرنے اور کامیاب ہونے والوں کی مختصر تفصیل درج ذیل ہے.
زمرہ اول
پہلی پوزیشن: رحمی بنت رضی اللّٰہ ‘جامعہ فیض الاسلام پڑریا
کو 10000(دس ہزار روپئے نیپالی ) کے علاوہ بیگ جس میں ترجمہ قرآن مجید، الرحیق المختوم ، کتاب التوحید نیپالی مزید اصول دین ، عقیدۂ توحید اور حج کے اعمال جیسی اہم کتابیں بھی شامل رہیں
دوسری پوزیشن:نازنین بنت جمال احمد’کلیہ فاطمہ زہراء بھنگہیا
کوسات ہزار (7000)روپئے نیپالی کے علاوہ علمی کتابیں بھی بطور انعام دی گئی
تیسری پوزیشن: سمیہ بنت علاؤالدین ‘کلیہ فاطمہ زہراء بھنگہیا
کو پانچ ( ہزار روپئے نیپالی ) کے علاوہ علمی کتابیں بھی بطور انعام دی گئی
اس زمرہ کی ایک حیرت انگیز پہلو یہ سامنے آیا کہ اس زمرہ میں ملت کی بیٹیاں،ہی فرزندان ملت پر سبقت لے گئیں ۔
اس زمرہ میں عشرہ اوائل میں درج ذیل طلبہ و طالبات نے پوزیشن حاصل کی انہیں بھی دو ہزار نقد( روپئے نیپالی ) کے علاوہ علمی کتابیں بھی بطور انعام دی گئی
(1)صائمہ بنت محمد حسین /جامعہ فیض الاسلام پڑریا
(2) کہکشاں بنت عبداللطیف /کلیہ سمیہ للبنات تنہوا
(3) شاکرہ بنت محمد یاسر /کلیہ سمیہ للبنات تنہوا
(4)مسیح الدین بن مقبول احمد /مدینة الإسلام بھنگہیا
(5) محمد عدنان بن محمد سہراب /مدینة الإسلام بھنگہیا
(6) عفیفہ بنت عبدالمعبود /کلیہ فاطمہ زہراء بھنگہیا
(7)عبدالرحمن بن منظور علی /مدینة الإسلام بھنگہیا
(8) محمد آصف بن شرف الدین /جامعہ محمدیہ بھیرہوا
(9) زینت بنت اختر حسین /جامعہ فیض الإسلام پڑریا
(10) امان اللہ بن حقیق اللہ /مدینۃ الاسلام بھنگہیا

زمرہ دوم
اس میں بھی اکثر مدارس اسلامیہ کے ٦٢/طلبہ و طالبات نے شرکت کی
پہلی پوزیشن :ریاض احمد بن محمد رشید متعلم جامعہ فیض الاسلام پڑریا نے حاصل کی انہیں بطور انعام چھ ہزار ( روپئے نیپالی ) کے علاوہ علمی کتابیں بھی بطور انعام دی گئی
دوسری پوزیشن: محمد ریحان محمد یاسر متعلم مرکز التعلیم والدعوة الإسلاميةتنہوا انہیں بھی چار (ہزار روپئے نیپالی ) کے علاوہ علمی کتابیں بھی بطور انعام دی گئی
تیسری پوزیشن :حذیفہ بن عبدالسبحان متعلم مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ شیوگڑھیا انہیں بھی دوہزار (روپئے نیپالی ) کے علاوہ علمی کتابیں بھی بطور انعام دی گئی
اس زمرہ میں عشرہ اوائل میں درج ذیل طلبہ و طالبات نے پوزیشن حاصل کی انہیں بھی ایک ہزار نقد( روپئے نیپالی ) کے علاوہ علمی کتابیں بھی بطور انعام دی گئی
(1) ناجیہ خاتون بنت نبی سرور /مدرسہ عربیہ بحرالعلوم ترکلہا
(2) نبیلہ نرگس بنت سرور عالم /جامعہ فیض الاسلام پڑریا
(3) مریم خاتون بنت انعام اللہ /مدرسہ اسلامیہ بیت العلوم اماری
(4) شاہین بنت جمن مسلمان / مدرسہ تنویر الاسلام السلفیہ دھوپہی
(5) ضیاء الرحمٰن بن ضیاء الدین /مرکز التعلیم و الدعوة الاسلامیہ تنہوا
(6) محمد حسان بن اقبال احمد /مدرسہ عربیہ دارالسلام مڑلا
(7) محمد شاہد بن محمد وارث /مدرسہ عربیہ دار الہدی چین پورا
(8) شائستہ بنت محبوب عالم /جامعہ فیض الاسلام پڑریا
(9) فوزان احمد بن اختر حسین /مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی شیوگڑھیا
(10) سیدہ خاتون بنت عبدالقیوم /مدرسہ عربیہ انوار العلوم گنوریا
ترانہ کے بعد ناظم ضلعی جمعیت اہل حدیث روپندیہی صلاح الدین لیث محمد مدنی نے مسابقہ میں دور دراز کا سفر طے کرکے آنے والے سرپرستوں اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا’اس کے معا بعد معزز مہمانان علماء کرام نے اپنے اپنے تاثرات و احساسات پیش کئے جن کے اسماء گرامی یہ ہیں فضيلة الشيخ عبدالحى مدني ، محمد نسيم مدنى ، جمال احمدشاہ جھنڈانگری ، ابرار احمد مدنی ، محمد اطہر مدنی حفظہم اللہ تعالیٰ ان کے علاوہ ضلع کے اکثر علماء کرام ، سرپرست طلبہ و طالبات اور عوام الناس کی اچھی خاصی تعداد بھی شریک مجلس رہی ۔
۔تمام شریک طلبہ کو انعامات واسناد سے نوازاگیا۔ اس طرح مسابقہ میں شرکت کرنے والے طلبہ وطالبات اور اداروں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ نیز دیگر مہمانوں کے درمیان منہاج المسلم بزبان نیپالی تقسیم کی گی.
مسابقے کو تاریخ ساز بنانے میں جن لوگوں نے بھر پور حصہ لیا اور جو مخلصانہ کردار ادا کیا، اس کے لیے ضلعی جمعیت اہل حدیث کے جملہ عہدیداران و ذمہ داران ان کے مشکور وممنون ہیں
پورا پروگرام انتہائی پر سکون ماحول میں انجام پایا. اللہ تعالیٰ جمعیت کو اس طرح کے مزید دینی سماجی اور رفاہی کاموں کی توفیق دے اور تمام لوگوں کی حاضری قبول فرماۓ۔تقبل يارب العالمين.

Related posts

وطن عزیز نیپال میں ایک عظیم مسابقہ کا انعقاد

Paigam Madre Watan

چند اہم تجاویز پر حتمی فیصلے کے ساتھ جمعیت علماء نیپال کا پروگرام بحسن وخوبی اختتام پذیر

Paigam Madre Watan

مدرسہ امداد الغرباء بلوا روتہٹ نیپال کا جلسہ دستار بندی بحسن وخوبی اختتام پذیر

Paigam Madre Watan

Leave a Comment