Rashhat-E-Qalam رشحات قلم

ابتدائیہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علی إمام الأنبیاء وسید المرسلین وعلی آلہ وصحبہ أجمعین ومن تبعھم باحسان إلی یوم الدّین وبعددس بارہ سال پہلے تک یہ بات کہیں حاشیہ خیال میں بھی نہ آئی تھی کہ اپنا تذکرہ لکھنا چاہئے یا اپنے بارے میں کچھ یاداشت معرض تحریر میں لانا چاہئے، میرے خیال سے اس کے لیے شخصیت اہم اور عظیم ہونی چاہئے۔ ویسے بہت پہلے جامعہ سلفیہ کی زندگی میں ایک طالب علم نے سانحی حالات کے بارے میں ایک انٹرویو لیا تھا کہ ہم اسے جامعہ سلفیہ کی انجمن ندوۃ الطلبہ کے پندرہ روزہ پروگرام کے تحت چلنے والے لجنۃ الثقافہ میں پیش کریں گے۔ آپ سے پہلے چند اساتذہ کا تذکرہ ہو چکا ہے ، اب کی بار آپ کی باری ہے، آئندہ بقیہ لوگوں کا ذکر باری باری کیا جائے گا۔ ان شاء اللہ۔ مجھے معلوم نہیں کہ یہ سلسلہ مکمل ہوا تھا یا نہیں، اور یہ کہ اس طرح کے کاغذات محفوظ رکھنے کا کیا طریقہ ہوگا؟ محفوظ ہیں یا ردی کی ٹوکری میں پہنچ کر ضائع ہو گئے۔ ویسے لجنۃ الثقافہ کا پروگرام مختلف نوعیت سے چلتا رہا، کبھی کسی دشواری کے تحت کچھ دنوں کے لیے بند ہوجاتا ۔ لیکن پھر نئے احساس کے ساتھ شروع ہوتا۔ پھر امتحان وغیرہ کی وجہ سے بند ہوجاتا۔ پھر نئے سال سے نئے جذبہ کے ساتھ شروع ہوتا، درمیان میں کوئی دشواری ہوتی تو پھر بند ہوجاتا۔
پھر جب میری شاعری کا مجموعہ بنام ’’پرواز‘‘ مطیع الرحمٰن عزیز سلفی سلمہ کی کوششوں سے جناب حیدر قریشی جرمنی (پاکستان نژاد) نے اپنے خرچ پر چھپوایا اور ساتھ ساتھ مسودہ بھیج کر دنیا کے بڑے بڑے ادیبوں سے تأثرات لکھوائے اور خود بھی لکھا، یہ ان کا بڑکپن تھا کہ انہوں نے اس ناچیز کو اور اس کی چھوٹی اور خام شاعری کو دنیا کے بڑے بڑے ادیبوں کے سامنے پیش کردیا، ان کے تاثرات مع دیگر تاثرات کے ’’پرواز‘‘ کے صفحات میں موجود ہیں۔ یہ پہلا ایڈیشن تھا جو تقسیم ہوکر لوگوں کے سامنے گیا اور لوگوں نے مجھ ناچیز کی کوشش کو دیکھ کر بڑی تعریف کی۔ مگر ابھی مانگ تھی اور لوگ اسے حاصل کرنے کی تگ ودو میں تھے کہ کسی طرح سے یہ کتاب حاصل ہو تو مطیع الرحمٰن عزیز سلفی سلمہ نے دوسرا ایڈیشن مولوی زین العابدین سلفی سے چھپوا یا مگر کچھ تبدیلی آنے نہ دی۔ ان کی چھاپی ہوئی پوری کاپیاں مطیع الرحمٰن سلفی سلمہ نے خرید لیںاور جس جس طرح ضرورت وطلب دیکھی ہدیہ کرتے گئے۔ فجزاھم اللہ أحسن الجزاء۔
پرواز کے پہلے ایڈیشن کی طباعت کے بعد جناب حیدر قریشی جرمنی کا میرے پاس ٹیلی فون آیا کہ اپنی یاداشت کی ساری باتیں جو اپنے بارے میں ذہن میں محفوظ ہوں لکھ ڈالیں ابھی آپ کے والد صاحب حیات ہیں ان سے آپ کو بڑی مدد ملے گی۔ اس وقت میں نے جناب حیدر قریشی کو جواب دیا کہ ایسا نہ کرنے کی دو وجہیں میرے سامنے ہیں:
(۱) پہلی بات کہ میں خود کو اس لائق نہیں سمجھتا کہ جس کے احوال قلم بند کئے جائیں ، اس لیے کہ احوال لکھنے کے لیے شخصیت کی عظمت ضروری ہے۔ اس لیے میں نے لوگوں کو عظیم شخصیات کا تعین کرکے بعض ذمہ دار حضرات کو توجہ دلائی تھی کہ ان کے پاس ایک آدمی بھیج کر حالات اور ان کی معلومات یکجا کرالیں یہ تاریخی چیز دوسری جگہ نہیں مل سکے گی۔ مولانا عبد الحمید رحمانی رحمۃ اللہ علیہ سے بھی یہی بات کہی تھی کیوں کہ ان کے پاس جمعیت اور جماعت کی جو تاریخ تھی وہ کسی دوسرے کے پاس نہیں تھی آخر کار وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔ ان کے انتقال کے بعد ان کی ساری یاداشت انہی کے ساتھ چلی گئی۔ ان کے ارتحا ل کے بعد ان کے بچوں نے کسی طرح کے مقالات اور مضامین یکجا کرکے ۴؍جلدوں میں طبع کرایا اور اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی ۔ مگر وہ باتیں کہاں مل سکتی ہیں جو ان کے سینہ میں محفوظ تھیں۔ میں ان کے ساتھ رہا اور انہوں نے بعض موضوعات پر بعض باتیں املا کرائیں۔ اس لیے مجھے معلوم ہے کہ ان کے سینہ میں کتنے گوہر پوشیدہ ہیں جو اظہار کے منتظر ہیں۔ اسی طرح اکثر لوگوں نے میری بات سن کر خاموشی اختیار کر لی۔
(۲) دوسری بات یہ ہے کہ اگر میں اس طرح چند الفاظ یا چند سطر میں لکھوں تو کون اس کی طباعت کی طرف توجہ دے گا۔
اس میں پہلی بات کا جواب محترم حیدر قریشی جرمنی نے یہ دیا کہ کوئی آدمی خود اپنے درجہ کا تعین نہیں کر سکتا۔ اس کو دوسرے دیکھنے اور سننے والے لوگ ہی جان سکتے ہیں اور درجہ کا تعین کر سکتے ہیں۔ اور جہاں تک دوسری بات کا تعلق ہے تو دنیا میں بہت سے اللہ کے بندے مل جائیں گے جو شوق سے چھاپیں گے۔ اور منظر عام پر لے آئیں گے۔
بس اتنی بات پر ان کی بات ختم ہو گئی پھر اس کے بعد نہ مجھے ہوش آیا کہ کچھ کروں اور نہ محترم نے دوبارہ مجھ کو کچھ تنبیہ کی۔ اللہ تعالیٰ محترم کے اس سجھائو اور خلوص نیتی پر دونوں جہان میں جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین
جامعہ سلفیہ بنارس میں رہتے ہوئے بہت سے شاگردوں نے اس طرح کی بات کہی تھی لیکن ان کی بات کو سن کر میں ٹال دیا کرتا اور کوئی توجہ نہ دیتا تھا۔ مولوی محمد رفیق رئیس سلفی(علی گڑھ) نے کئی بار یہ بات کہی مگر ان کو بھی ٹال دیتا اس کی طرف توجہ نہیں دیتا۔ مولانا اسحاق بھٹی کی طلب بھی بتائی کہ وہ بڑے اصرار سے مانگ رہے ہیں اس لیے ان کو کچھ لکھ کر دے دیجئے۔ پھر بھی میں نے کچھ پرواہ نہ کی۔ آخری بار پھر انہوں نے مولانا اسحاق بھٹی کا حوالہ دیا تو میں انکار نہ کر سکا۔ قلم سنبھالا اور کاغذ لے کر بیٹھ گیا۔ ۴؍۵ روز میں اس تحریر کی مقدار چالیس پینتالیس صفحہ تک پہنچ گئی اور ابھی کوئی کام کی بات نہ آسکی۔ میں نے ٹیلی فون سے شیخ رفیق سلفی کو مطلع کیا تو انہوں نے جواب دیا جتنا بھی طویل ہو جائے اچھا ہے اب آپ قلم نہ روکئے گا۔
اسی کے قریب مطیع الرحمٰن عزیز سلفی کے یہاں مارچ ۲۰۱۳؁ء میں بچی کی ولادت ہوئی انہوں نے عقیقہ میں شرکت کے لیے زور دیا ۔ اس وقت عبد الرحمٰن بھی دہلی میں تھے اور ادھر ام عبد الرحمٰن میمونہ شہناز اور چھوٹی بچی عبیدہ یاسمین شہناز بھی وہیں تھیں اس وقت مطیع الرحمٰن عزیز کرایہ کے کمرے میں ڈاکٹر حامد صاحب کے یہاں رہتے تھے ، ڈاکٹر صاحب نے اپنی بیوی کے ذریعہ نیچے کا کمرہ صاف کرایا پورے کمرے میں چاندنی بچھوائی اور ایک طرف میرے لیے بستر لگوایا، الغرض انہوں نے بڑی عزت وتکریم کی، ابھی صرف دور سے مجھے جانتے تھے۔ پہلی بار ان سے علیک سلیک ہوا اور وہیں سے تعارف بڑھا۔ مطیع الرحمٰن نے بہت لمبی چوڑی دعوت کی۔ اس میں بہت سے برادران وطن کو بلایا جس میں خصوصی طور پر ملک کے مایہ ناز صحافی روزنامہ ہمارا مقصد کے ایڈیٹر دیس راج مضطر اور ان کی اہلیہ ممتا جی اور ان کے بچے۔ اسی طرح سے ہندستان کی سب سے بڑی بجلی کمپنی این ٹی پی سی کے چیف انجینئر وروزنامہ نادیہ ٹائمز کے ایڈیٹر ومالک اور نیشنل ٹینس اسپورٹ مین احمد رئیس صدیقی علیگ، و ان کے اہل خانہ ،ایڈیٹر سیاسی تقدیر گروپ محمد مستقیم خان، جناب عبد الرحمٰن موضع اگیا (اٹوا) رحمہ اللہ تعالیٰ اور اپنے گائوں کے لوگوں کو جو سونیا وہار وغیرہ اور دیگر محلوں میں رہتے تھے ان کو بھی مدعو کیا۔ اسی بہانے اپنے متعارفین اور مطیع الرحمٰن عزیز کے متعارفین اور ان کے اہل وعیال سے ملاقات وتعارف ہوا، دعوت بہت لمبی تھی دو روز چلتی رہی اور لوگوں کا آنا جانا، کھانا پینا چلتا رہا، بڑے صاحبزادے عبد الرحمٰن عزیز فیضی وہاں کے منتظم اعلیٰ تھے۔اس پروگرام کو دیکھ کر اور لوگوں سے مل کر بڑی خوشی ہوئی۔
میں تقریباً ہفتہ بھر وہاں ٹھہرا رہا اور اس تحریر کو کم از کم ڈیڑھ سو صفحے مطیع الرحمٰن عزیز کے حوالے کر دیا، اور انہوں نے میرسے سامنے ہی اپنے ایک دوست کو کمپوز کرنے کے لیے حوالہ کر دیا ۔ پھر بنارس آکر دو تین قسط میں نے مطیع الر حمٰن کے پاس ارسال کیں اور وہ کمپوزنگ کراتے رہے۔
مارچ ۲۰۱۵؁ء میں میرے اوپر فالج کا حملہ ہوا جس کی وجہ سے لکھنا پڑھنا بالکل بند ہوگیا، اب اللہ تعالیٰ نے صحت عطا فرمائی ہے لیکن ہاتھ اور پیروں کی کمزوری باقی ہے انہی حالات میں پروف ریڈنگ کا کام دھیرے دھیرے ہوا ۔ بعض چیزیں جو چھوٹی ہوئی تھیںان کو مکمل کیا اور یہ سطور عرض حال کے طور پر حوالۂ قلم کر رہا ہوں ۔
بزرگوار حیدر قریشی جرمنی نے ذکر کیا تھا کہ ابھی والد صاحب حیات ہیں ان سے آپ کو اس تحریر میں بہت مدد ملے گی۔ وہ بالکل درست تھا مگر والد صاحب ۲۶؍ جنوری ۲۰۱۵؁ء کو چل بسے اس کے دو تین ماہ پیشتر منجھلے چچا حفیظ اللہ رحمہ اللہ تعالیٰ بھی اللہ کو پیارے ہوگئے۔ اب کسی سے مدد حاصل کرنے کا کوئی ذریعہ نہ رہا ۔ اس لیے جو کچھ حافظہ میں تھا اسے حوالہ کرکے مطیع لرحمٰن سلفی سلمہ کے پاس بھیج رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا تو حالات میں آسانی پیدا کرے گا اور ان شاء اللہ طباعت کا کام ہوجائے گا اور یہ ٹیڑھی ترچھی لکیروں کا مجموعہ منظر عام پر آجائے گا۔
اللہ تعالیٰ اس کتاب کو قارئین کے لیے نفع بخش بنائے اور ان کے لیے تحریر کردہ چیزوں میں عبرت وموعظت کا سامان پیدا کرے اور مجھ کو، میرے والدین واقرباء کو نیز اولادواعزاء کے لیے توشۂ آخرت بنائے۔ آمین
وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔ والصلوٰۃ والسلام علی سید الرسل وإمام الأنبیاء وعلی آلہ وأصحابہ وأزواجہ وذرّیاتہ أجمعین ومن تبعھم باحسان إلی یوم الدین۔ آمین یا رب العالمین


فقط آپ کا عرض گزار
عزیز الرحمٰن نصیب اللہ سلفی
ٹکریا، کسمہی، سدھارتھ نگر،یوپی

Related posts

رفقائے درس

Paigam Madre Watan

اساتذہ کی کرم فرمائیاں

Paigam Madre Watan

ایک سازش

Paigam Madre Watan

Leave a Comment