Articles مضامین

عصری تعلیم مسلمانوں کے لیے ضروری کیوں؟

غریب نواز مصباحی

گزشتہ کچھ صدیوں سے مسلم قوم کی بدحالی و مظلومی میں اضافہ ہی ہو رہا ہے، 57 کے قریب مسلم ممالک ہونے کے باوجود بھی امت مسلمہ بحیثیت مجموعی غیروں کے رحم وکرم پر ہوگئی ہے ، ادھر چند دہائیوں سے عالمی طور پر مسلمانوں کے حق میں حالات زمانہ نازک سے نازک تر ہوتے جا رہے ہیں ، یوں معلوم ہوتا ہے کہ اب یہ صورتحال اپنی آخری حدوں کو چھورہی ہے، مسلم قوم کا یہ حشر کوئی راتوں رات نہیں ہوا ہے بلکہ یہ برسوں کے جمود و غفلت اور تعطل کا انجام ہے، مسلمانوں نے جب سے انسانی سماج کے تقاضوں کو سمجھنے اور ان کو شرعی حدود میں رہ کر پورا کرنے سے اپنے آپ کو کنارہ کش کر لیا تو سماج نے ان کو انسانوں کے گروہ ہی سے گویا خارج کر دیا اور جب سے مسلمانوں نے عصری علوم کے میدان کو خالی کر دیا تو ان کی نسلیں ایک عجیب دو راہے پر آ کر پھنس گئیں ، اگر دینی علوم کے راستے کو اختیار کرتی ہیں تو معاشرہ ان کی علمی لیاقت اور افادیت کو آسانی سے تسلیم نہیں کرتا اور اگر عصری علوم کے میدان کو اپناتی ہیں تو دین کا سلامت رہنا ایک سخت امتحان کی چیز بن جاتا ہے اور اب جب سے حکومت ہند کی نئی تعلیمی پالیسی منظر عام پر آئی ہے،اگر خدانخواستہ اس کا نفاذ ہو تو عصری اداروں کے طلبہ کا ایمان باقی رہنا بھی بعض فکرمند یہ ہوا کہ خود علماء کے مطابق مشکل معلوم ہوتا ہے، العیاذ باللہ العظیم ، اس صورتحال کا دوسرا نقصان یہ ہے مسلمانوں کی صفوں میں بھی ایک طرح کا خلفشار پیدا ہو گیا اور دینی تعلیم یافتہ اور عصری تعلیم یافتہ طبقہ کے درمیان ایک زبر دست خلیج قائم ہو گئی ، دونوں کی زبان و نفسیات الگ،سوچ و فکر کا طریقہ اور ترجیحات مختلف،ایک دوسرے کے تعلق سے ذہن و گمان منفی،غرض ان دونوں طبقوں کے باہمی رشتوں میں ایک سرد مہری کی فضاء قائم ہوگئی ۔
عصری علوم جب تک مسلمانوں کے دسترس میں تھے اور علم وتحقیق کی قیادت ان کے پاس تھی تو ایک طرف تو ان کا عروج اور ان کی دھاگ بھی پورے عالم پر قائم تھی تو دوسری طرف ان عصری علوم کی آبرو بھی باقی تھی ، آج عصری علوم سے عملی طور پر اخلاقیات کا جو دیوالیہ نکل چکا ہے، اس سے پہلے اس کی مثال نہیں ملتی ، ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنی پوری مسلمانیت کے ساتھ اس میدان کی باگ ڈور دوبارہ سنبھالیں ، اپنے درخشاں ماضی سے حوصلہ لیں ، سائنس وٹکنالوجی کے میدان میں اسلاف کے محیر العقول کارناموں سے واقف ہوں اور اقوامِ عالم کے مقابلہ میں ہر قسم کی قوت تیار رکھنے کے قرآنی حکم پر ایک نئے عزم اور مضبوط ارادے کے ساتھ عمل پیراں ہوں.(عصری تعلیم)
دور حاضر میں عصری تعلیم کے بے پناہ فوائد ہیں:زندگی کے ہر شعبوں میں آج عصری تعلیم کی رنگا رنگی نظر آتی ہے قوموں کی قیادت،سیاست مدن اور تدبیر منزل جیسے اوصاف عصری تعلیم کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتے،سائنس اور ٹیکنالوجی کے برق رفتار عہد میں عصری تعلیم کے بغیر باوقار زندگی گزارنے کا تصور محال سا نظر آتا ہے۔دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ جب ہمارا نوجوان عصری تعلیم سے بھی آراستہ ہوگا تو وہ دور حاضر کے مختلف مسائل اور چیلنجوں کا نہ صرف سامنا کرے گا بلکہ سختی سے ان کا ڈٹ کر مقابلہ بھی کرے گا،عصری تعلیم سے روزگار اور آمدنی کے ذرائع بھی کشادہ ہوں گے جس سے غربت، افلاس اور تنگ دستی جیسے مسلم معاشرے کے مسائل کا خاتمہ ہونے میں بھی مدد ملے گی، آج ہمارے سماج میں عالم باعمل اور مفتیان کرام کے ساتھ ساتھ اچھے ڈاکٹروں، انجینیروں، قانون دانوں، محققوں، اور سائنس دانوں کی بھی اشد ضرورت ہے اور یہ سب عصری تعلیم کے بغیر ناممکن ہے۔
دور حاضر کے تقاضوں سے آگاہی کے بغیر ہم اپنا کاروان حیات کامیابی و کامرانی کے ساتھ آگے نہیں بڑھا سکتے اور اس کا شعور و ادراک دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کے حصول سے ہی ممکن ہوگا، اس بات کو بھی ذہن نشیں رکھنا نہایت ضروری ہے کہ عصری تعلیم کے جہاں بے شمار فوائد ہیں وہی بہت سے نقصانات بھی ہیں اسی بنیاد پر مسلمانوں میں عصری تعلیم کو لے کر ہمیشہ بحث و تمحیص کا موضوع بنی رہی ہے اس کے بارے مثبت اور منفی دونوں نظریات ہمارے معاشرے میں پائے جاتے ہیں جہاں ایک طبقہ عصری تعلیم کا زبردست حامی رہا ہے، وہیں وہ طبقہ جس میں ہمارے بعض علماے کرام بھی شامل ہیں جدید اور عصری تعلیم کا مکمل طور پر انکار نہ کرتے ہوئے بھی حتی الامکان عصری تعلیم سے دوری بنائے رکھنے کے قائل نظر آتے ہیں، لیکن دونوں طبقے اس بات کو ضرور مانتے ہیں کہ مسلمانوں کو بھی ڈاکٹر، سائنسداں، قانون داں اور ماہر ریاضی و فلسفہ بننے کی سخت ضرورت ہے۔ اسلام کی حقیقت پسندانہ اور روشن و منور فکر کے باوجود دور حاضر کا یہ المیہ ہے کہ مسلمانوں کے علمی عروج و اقبال کا آفتاب جس طرح اسلام کے ابتدائی دور سے لے کر کئی صدیوں تک اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا آج اسی قدر انحطاط و تنزلی کا شکار ہوتا جارہا ہے عصری تعلیم کی فقدان کی وجہ سے ہم زندگی کے اہم شعبہ جات میں اہل مغرب کی خیر محسوس غلامی کر رہے ہیں، معاشرت معیشت، ثقافت،سیاست،تجارت اور دیگر معاملات میں مسلمان اغیار کے غلام بن کر رہ گئے، مسلمان جس کی تخلیق دنیا کی قیادت و رہنمائی کے لیے کی گئی ہے اور جس کے سر پر خلافت کا تاج زرین سجایا گیا ہے وہ آج خود نشان منزل کھو بیٹھا ہے اور سراب سفر کو مقصود حقیقی سمجھ کر اسی پر قانع و شاکر ہے، اسی لیے ذلت و نکبت کے دلدل میں دھنستا چلا جا رہا ہے. ہمیں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم شاندار ماضی اور عبرت ناک حال کو دیکھ کر روشن مستقبل کی عمارت کھڑی کرنے کے لیے منظم منصوبہ بندی کریں اور یہ دور حاضر میں عصری تعلیم کے حصول کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
جب تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ دور حاضر میں سائنس کی جتنی بھی ایجادات اور انکشافات ہیں یہ سب مسلم سائنس دانوں کی مرہون منت ہیں۔ بہت سارے مسلمان سائنسدان جدید علوم و فنون کی آبیاری اور ارتقاء میں نمایاں کردار ادا کیا۔جب یورپ جہالت و تاریکی کے گھٹا ٹوپ غاروں میں محصور تھا،اس وقت بغداد، مراکش اور دیگر اسلامی ملکوں میں علوم و فنون کی قندیلیں روشن تھیں،ہمارے علما صرف دینی تعلیم ہی میں آگے نہیں تھے بلکہ اس زمانے کے تقاضوں کے مطابق اپنے شاگردوں کو عصری تعلیم سے بھی آراستہ کر رہے تھے اہل یورپ اپنے بچوں کو ان کے سامنے زانوے تلمذ تہ کرنے کے لیے بھیجا کرتے تھے،اہل یورپ مسلمانوں سے علوم و فنون میں مہارت حاصل کر کے آج وہ دنیا کی ترقی یافتہ قومیں بن گئیں
جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ اور جاپان کے درمیان قتل و غارت گری کی ایک طویل داستان ہے 1945ء میں امریکہ نے بمباری کر کے جاپانی قوم کے بہت سے علاقوں کو تباہ و برباد کر دیا، بالآخر جاپان کی شکست پر جنگ ختم ہوئی، عناد کی آگ ان کے دلوں میں بھڑک تو رہی تھی لیکن جاپانی حکومت نے بدلا لینے کے بجائے اپنی تمام تر توجہ تعلیم اور ٹیکنالوجی پر دی آج اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جو ملک دوسری عالمی جنگ میں شکست کھا کر نکلا تھا وہ دنیا کے سامنے فاتح بن کر کھڑا ہے،جاپانیوں نے ٹیکنالوجی میں آج اتنی مہارت حاصل کر لی ہے کہ صنعتی میدان میں سب کو شکست دے دی ہے، ہم مسلمانوں کے لیے یہ ایک بہت ہی عمدہ مثال ہے کہ مسلسل شکست و ریخت سے ابھی تک سبق حاصل کریں، اور اپنے زوال کے بنیادی سبب کو دیکھ کر اس پر عمل در آمد شروع کریں اور پھر اپنے دور عروج کو معرض وجود میں لانے کی ضرورت ہے

Related posts

’15 मिनट पुलिस हटा दो ‘ पुस्तक पर टिप्पणी

Paigam Madre Watan

منور رانا: عہدِ رواں کا حساس نوعیت کا مقبول عوامی شاعر

Paigam Madre Watan

Alima Dr. Nowhera Sheikh: Illuminating Future Prospects and felicitous Opportunities

Paigam Madre Watan

Leave a Comment