Education تعلیم

غالب اردو کا پہلا ترقی پسند شاعر: ڈاکٹر تقی عابدی

غالب ہر دور کا مقبول شاعر۔ پروفیسر سید عین الحسن


شعبۂ اردو، مانو میں توسیعی خطبہ "عہد حاضر میں غالب کی معنویت” کا انعقاد


حیدرآباد، 15؍ دسمبر (پریس نوٹ) "اردو میں سب سے زیادہ نکتہ آفرینی اور حسن آفرینی غالب نے پیدا کی ہے۔ ایجاز و اختصار اس کے کلام کی بنیادی خوبی ہے۔” ان خیالات کا اظہار ممتاز اردو و فارسی اسکالر ڈاکٹر سید تقی عابدی نے شعبۂ اردو، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی جانب سے "عہد حاضر میں غالب کی معنویت” کے موضوع پر منعقدہ توسیعی خطبہ پیش کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ غالب کمالات کا شاعر ہے۔ وہ انسانیت کا شاعر ہے، حقوق انسانی کا شاعر ہے۔ وہ پہلا ترقی پسند شاعر ہے۔ اس کی شاعری کے ساتھ ساتھ خطوط بھی معنویت سے پر ہیں۔ اسی لیے علامہ اقبال اور دیگر اہم شاعروں اور نقادوں نے بھی ان کی عظمت کا اعتراف کیا ہے۔
پروفیسر سید عین الحسن، شیخ الجامعہ نے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غالب کو وقت کے دائرے میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ وہ ہر دور کا شاعر ہے۔ اسی لیے اس کا کلام ہر دور میں مقبول رہا ہے۔ غالب کے بارے میں ایک زاویے کے بجائے مختلف زاویوں سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ بے جان شے کو بھی جاندار بنا کر پیش کردینے کے ہنر سے واقف ہے۔ پروفیسر سید عین الحسن نے مزید کہا کہ "دستنبو” کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ غالب کو علم نجوم پر بھی دسترس تھی۔ انھوں نے انگریزوں اور ان کے افرادِ خاندان کے قتل کی مذمت کی تھی۔ وہ انسانی اقدار کے عَلَم بردار تھے۔ میں نے اس کتاب کی اہمیت کے پیش نظر "دستنبو” کا ہندی میں ترجمہ کیا جسے علمی حلقوں میں خوب پذیرائی ملی۔‘‘
پروفیسر سید عین الحسن نے شعبے کے اساتذہ کی بھرپور ستائش کی اور انھیں جواہر پارہ قرار دیتے ہوئے شعبے کی ترقی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
مہمان خصوصی پروفیسر اشتیاق احمد، رجسٹرار، مانو نے اس اہم موضوع پر لیکچر کے انعقاد کے لیے شعبۂ اردو کو مبارک باد دی اور مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ مہمان اعزازی پروفیسر عزیز بانو ڈین اسکول براے السنہ، لسانیات و ہندوستانیات نے بھی اس موقعے پر اظہار خیال کیا۔
مہمان اعزازی پروفیسر محمد نسیم الدین فریس ممتاز محقق و ماہر دکنیات اور سابق ڈین ایس ایل ایل آئی، مانو نے کہا کہ غالب کے چھوٹے بھائی یوسف مرزا کے داماد حیدرآباد میں بڑے عہدے پر فائز تھے۔ حیدرآباد کے دور دراز کے علاقوں میں غالب کی شہرت تھی۔ کلاسک وہ شہ پارہ ہے جس کی قدر ہر زمانے میں کی جاتی ہے۔ غالب کا کلام اس اعتبار سے کلاسیکی شاعری ہے۔ اس لیے غالب کا یہ کہنا کہ ‘میں عندلیب گلشن نا آفریدہ ہوں’ صحیح نہیں معلوم ہوتا۔ابتداء میں صدر شعبۂ اردو پروفیسر شمس الہدیٰ دریابادی نے خیر مقدمی کلمات پیش کیے اور موضوع کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ غالب نے اپنے کلام کی بنیاد حسی تجربات پر رکھنے کی بجائے تصوراتی اور تجریدی معاملات پر رکھی ہے۔ وہ نئے مضامین اور لفظ تازہ کی تلاش میں نہایت جگر کاری سے کام لیتے ہیں۔ اظہار کی ندرت اور خیال کی پیچیدگی ان کا امتیازی وصف ہے۔ غالب کو تشکیک کا امام کہا جاتا ہے۔ غالب نے نامساعد حالات میں بھی خون دل سے چراغ جلائے ہیں۔ شکست خوردگی کے باوجود وہ افسردگی اور اضمحلال کا شکار نہیں ہوتے۔ غالب کا کلام ایک حیرت انگیز دنیا ہے۔ وہ نشاط زیست اور آشوب آگہی کا شاعر ہے۔پروگرام کی نظامت ڈاکٹر محمد اختر، اسوسی ایٹ پروفیسر اردو نے کی۔ شعبے کے استاد ڈاکٹر جابر حمزہ نے کلمات تشکر پیش کیے۔ پروگرام کا آغاز محمد سلمان ریسرچ اسکالر شعبۂ اردو کے تلاوتِ قرآن سے ہوا۔ اس موقعے پر شعبہ جات اردو، فارسی، ہندی، ترجمہ، مرکز مطالعات اردو ثقافت، مرکز پیشہ ورانہ فروغ براے اردو میڈیم اساتذہ اور نظامت فاصلاتی تعلیم کے اساتذہ کے علاوہ طلباء و طالبات کی کثیر تعداد موجود تھی۔


ہندوستان میں سائنس اور ٹکنالوجی کے کام کو مستحکم کرنا ہوگا


اردو یونیورسٹی میں دانشورانہ املاک پر پروفیسر تبریز احمد کا خصوصی لیکچر


سائنس اور ٹیکنالوجی میں ملک کی ترقی کا اندازہ پیٹنٹس فی ملین افراد کے حساب سے لگایا جاتا ہے۔ فی ملین سب سے زیادہ پیٹنٹ کے ساتھ جاپان سرِ فہرست ہے اور چین بھی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر تبریز احمد، پروفیسر لیگل اسٹڈیز، مولانا آزاد اردو یونیورسٹی نے آج شعبۂ نظم و نسق عامہ کے زیر اہتمام منعقدہ خصوصی لیکچر میں کیا۔ وہ ’’دانشورانہ املاک کے حقوق (Intellectual Property Right)‘‘ کے موضوع پر اظہار خیال کر رہے تھے۔ پروفیسر سید عین الحسن، وائس چانسلر نے اس پروگرام کی صدارت کی۔
پروفیسر تبریز احمد نے مزید کہا کہ ہندوستان میں سائنس اور ٹکنالوجی کے حوالے سے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دوسرے ممالک سے مسابقت کی جاسکے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہندوستانی محققین پیٹنٹ فائل کرنے میں اپنی ہچکچاہٹ سے باہرآئے۔ اس ضمن میں یونیورسٹیوں کو چاہیے کہ وسائل اور ماحول فراہم کریں اور معیاری تحقیق کی حوصلہ افزائی کریں۔ ہر یونیورسٹی کو اپنی انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس کی پالیسی بھی مرتب کرنی چاہئے۔ انہوں نے دانشورانہ املاک کے حقوق سے متعلق اخلاقی امور پر بھی روشنی ڈالی اور تشویش کا اظہار کیا کہ اگر مصنوعی ذہانت سے چلنے والے روبوٹس کو پیٹنٹ مل جاتا ہے تو یہ تشویشناک صورت حال ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پیٹنٹ کا موجودہ نظام غریبوں کے حق میں نہیں ہے کیونکہ پیٹنٹ کی پالیسی ایجاد کردہ اشیاء کو عام آدمی کی پہنچ سے دور کر دے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئی پی آر کے نظام کے نتیجے میں تحقیق کے شعبہ میں ایک مسابقت شروع ہو گئی ہے جس سے نئے ایجادات اور جدید ٹیکنالوجی کا فروغ ہو رہا ہے۔پروفیسر تبریز احمد نے اپنے خطاب میں انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس کی اہمیت اوراسکے مختلف جہتوں کی بھی وضاحت کی۔
پروفیسر سید عین الحسن نے صدارتی خطاب میں کاپی رائٹس کی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار کیا اور دانشورانہ کام کے سرقہ کی کئی مثالیں دیں۔ انہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ تحقیق کے اعلیٰ معیار کو اپناتے ہوئے تخلیقی کام انجام دیں۔ صدر شعبہ نظم و نسق عامہ ڈاکٹر سید نجی اللہ نے اپنے استقبالیہ کلمات میں موضوع کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ وائس چانسلر نے یونیورسٹی میں علم دوستانہ اور تحقیق پر مبنی ماحول کو فروغ دیا ہے اور انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس پر لیکچر یونیورسٹی کے تدریسی اور تحقیقی معیار کو بلند کرنے کے مقصد میں معاون ثابت ہوگا۔ جناب ڈاکٹر سدھانشو چندرا، اسسٹنٹ پروفیسرلیگل اسٹڈیز نے مقرر کا تعارف پیش کیا۔ پروفیسر کنیز زہرہ نے شکریہ ادا کیا۔ اس پروگرام میں تدریسی اورغیرتدریسی عملہ، ریسرچ اسکالرز اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

Related posts

کیرالہ پبلک سروس کمیشن میں شعبۂ عربی ، مانو کے طلباء کی شاندار کامیابی

Paigam Madre Watan

پروفیسر شمیم جیراج پوری کے اہل خانہ سے وائس چانسلر پروفیسر عین الحسن کی تعزیت

Paigam Madre Watan

فاطمۃ الزہرؓ کی ذات خواتین کیلئے رول ماڈل ہے

Paigam Madre Watan

Leave a Comment

türkiye nin en iyi reklam ajansları türkiye nin en iyi ajansları istanbul un en iyi reklam ajansları türkiye nin en ünlü reklam ajansları türkiyenin en büyük reklam ajansları istanbul daki reklam ajansları türkiye nin en büyük reklam ajansları türkiye reklam ajansları en büyük ajanslar