Rashhat-E-Qalam رشحات قلم

تعلیم وتعلم اور اساتذہ کرام

تصنیف: مولانا عزیزالرحمن سلفی 

ماخوذ: رشحات قلم


پیدائش کے بعد ابھی دوسال کا سن ہواتھا کہ خاندان کے بزرگوں نے تعلیم دلانے کی شدید خواہش کی وجہ سے گائوں کے مکتب میں بٹھادیا۔ اور سال بھر تک مسلسل دستور رہا کہ صبح کو گود میں اٹھاکر لاتے اور مدرسہ پر بٹھا کر چلے جاتے ۔ اور پھر دوپہر کی چھٹی کے وقت اٹھاکر گھر لے جاتے۔ (یہ باتیں مجھے بالکل یا دنہیں ہیں مگر میرے خاندانی بزرگوں نے میرے ذی ہوش ہونے کے بعد بتائیں) اس طرح بڑی کم عمری میں میں نے ’’ابررحمت‘‘ کی دوسری کتاب شروع کرلی اور قرآن ناظرہ ختم کر لیا۔ انہیں ایام میں ماموں صاحب (جناب مولانا شکر اللہ فیضی رحمہ اللہ) نے مدرسہ مفتاح العلوم کے نام سے عربی مدرسہ قائم کیا۔ (۱۹۵۶ء؁ میں) اوپر پڑھنے کے شوق میں بغیر پرائمری درجات پاس کئے فارسی جماعت میں آگیا۔ اور فارسی کے بعد عربی جماعتیں شروع ہوگئیں۔ کم سنی کی وجہ سے لوگ مجھے دیکھنے آتے تھے اور تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ’’اتنا چھوٹا بچہ فارسی یا عربی جماعتوں میں پڑھتا ہے‘‘ آپ خود ہی تصور کریں کہ اس شخص کی علمی بساط کیا ہوگی جس نے پرائمری صرف درجہ اول پڑھا ہو۔
بہرحال عربی درجات شروع ہونے کے بعد عربی کی پانچویں جماعت تک مدرسہ مفتاح العلوم میں تعلیم حاصل کی ، کچھ پتہ نہیں کیا پڑھا لکھا؟ اس مدرسہ میں حدیث کی کتابیں: بلوغ المرام، مشکوٰۃ جلداول، مشکوٰۃ جلد ثانی، سنن ابن ماجہ اپنے ماموں (جناب مولانا شکراللہ فیضی صاحب) سے پڑھیں۔ قرآن شریف کے تراجم، تفسیر جلالین اور دیگر فنون مولانا عبداللہ سعیدی جمنوی سے پڑھیں۔ ’’سلم العلوم‘‘ مولانا محمداحمد اثری (جو میرے ماموں زاد بھائی تھے) سے پڑھی۔
فارسی سے پانچویں جماعت تک میرے صرف ایک ساتھی ٹکریاگائوں ہی کے تھے۔ جن کا نام عبدالغنی (عرف بیپت) تھا میرے اور ان کے مابین بالکل اونٹ اور بلی کا فرق تھا۔ عمر کے لحاظ سے اور قد میں بھی ان کے نصف تھا۔ مجھے کچھ معلوم نہ رہتاتھا کہ کس کتاب میں کیابیان کیاگیاہے لیکن ہمیشہ میرا پہلا نمبر آتا تھا۔ پانچویں جماعت میں آکر کچھ ہوش آیا اور بعض کتابوں سے دلچسپی پیدا ہوئی۔ مثلاً ’’ المعلقات السبع‘‘ اس میں امرؤالقیس، زہیر، اورعمروبن کلثوم کے معلقات کے اکثر اشعار یاد تھے۔ ’’سلم العلوم‘‘ جس قدر ٹیڑھی کتاب ہے۔ اس کے پڑھانے والے نے ایسا پڑھایا تھا کہ جتنا پڑھا تھا اس سب کا مالہ وماعلیہ ازبر تھا۔ سنن ابن ماجہ کی ترتیب بہت اچھی لگی۔ ایک مسئلہ کی ساری حدیثیں ایک باب میں موجود ہیں ۔ اس کا مقدمہ خصوصاً بہت اچھا لگا۔ سبع معلقہ اور ابن ماجہ دونوں ماموں جان نے پڑھائی تھیں۔ ان کے علاوہ کتابوں میں بھی کچھ نہ کچھ پتہ لگنے لگاتھاکہ کیا بیان ہواہے۔ اس لیے اس سال پورے مدرسہ میں میرا پہلا نمبر تھا اور انعام میں کتاب ملی تھی۔
اس کے بعد مدرسہ دارالحدیث مئوناتھ بھنجن (ماموں صاحب کے اشارے پر) بھیجا گیا۔ اس سے پہلے ماموں صاحب نے جامعہ رحمانیہ بنارس میں داخلہ کے لیے خط لکھا تھا اور کہتے تھے کہ اگر وہاں ادنی جماعت میں جو عربی اول سے پہلے کا درجہ ہے داخلہ مل جائے گا تو بھی اچھا رہے گا۔ مگر یہاں سے یہ جواب موصول ہوا کہ یہاں صرف دوجگہیں خالی ہوئی تھیں جو پر ہوچکی ہیں۔ اب مزید گنجائش نہیں ہے۔ اسی لیے دارالحدیث بھیجا گیا یہاں گائوں کے طلبہ پہلے ہی سے داخل تھے اور کچھ مزید ساتھ میں آئے تھے۔ مگر یہاں کے اساتذہ میں ہم آہنگی نہیں تھی۔ چپقلش تھی اس لیے بڑا سخت امتحان ہوتا تھا۔ اور اس کے بارے میں سب سے مشہور مولانا فیض الرحمٰن فیض مئوی تھے۔ اتفاق سے میرا امتحان ان ہی کے پاس پڑگیا۔ بڑی عمر کے پرانے طلبہ اس بات کا یقین کرچکے تھے کہ میرا داخلہ عربی اول یا دوم میں ہوگا۔ اس لیے کہ مولانا فیض الرحمٰن فیض میرا امتحان لے رہے تھے۔ اور ان لوگوں کے ساتھ یہی ہوا تھا کہ دوتین جماعت نیچے کردیے گئے تھے۔ مگر میں جب امتحان کے لیے بلایا گیا تو مولانا نے میرے سامنے جلالین کھول کر رکھی اور یہ آیت پڑھائی ’’حرمت علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر الآیۃ‘‘ میں نے ترجمہ شروع کیا تو مولانا نے صرف یہ سوال کیا کہ ’’دم‘‘ کی تفسیر کیوں ’’الدم المسفوح‘‘ سے کی گئی ہے۔ مولانا نے یہ سوال جوں کیا مجھے لگا کہ جیسے اللہ تعالیٰ کی جانب سے الہام ہواہو، بلوغ المرام کی یہ حدیث مجھے یا دآگئی اور میں نے وہی پڑھ دی’’أحلت لکم المیتتان والدمان فاما المیتتان فہوالجراد والحوت واما الدمان فہو الکبد والطحال‘‘ کبد اورطحال بھی خون کی قسم ہے مگر منجمد ہے اس کے استثناء کے لیے دم کے ساتھ ’’الدم المسفوح‘‘ کی قید لگائی گئی۔ بس مولانا نے کتاب بند کردی او رمجھ سے فرمایا کہ جائو تمہارا داخلہ چھٹی جماعت میں ہوگیا۔ میں نے آکر ساتھیوں اور بڑوں سے یہ بات بتائی تو میرے پھوپھی زاد جو مجھ سے چھ سال یا آٹھ سال بڑے تھے او ریہی میرے گارجین تھے ۔ انہوںنے فرمایا: اتنی بڑی خوشی اب زندگی میں نہیں ملے گی، لائو مٹھائی کھلائو۔ اس طرح اپنے سے تین چار سال آگے پڑھنے والوں کا میرا ساتھ ہوگیا۔ خود یہ میرے پھوپھی زاد بھائی بھی میرے ہم جماعت ہوگئے جب کہ عمر میں اتنا تفاوت تھا اس طرح میں چھٹی جماعت میں پڑھنے لگا۔ ہماری جماعت کے طلبہ بورڈ کے مختلف امتحانوں کا فارم بھر رہے تھے میں نے بھی مولوی کا فارم بھردیا اور پھر بورڈ کے امتحان کے سبب ششماہی امتحان نہیں دینا پڑا۔ وہاں کا یہ قاعدہ تھا کہ جو طالب علم عربی فارسی بورڈ کے کسی امتحان کا فارم بھرے رہتا تھا اس کا مدرسہ کا امتحان معاف ہوجاتاتھا۔خواہ ششماہی ہو یا سالانہ۔ میں نے اسی سال مولوی کا امتحان سیکنڈ ڈویژن سے پاس کیااس وقت عربی فارسی بورڈ کا امتحان صرف الٰہ آباد میں ہوتا تھا اس لیے پورے صوبہ کے طلبہ کو الٰہ آباد ہی آنا پڑتا تھا، سفر خرچ اور کھانا وغیرہ کا انتظام مدرسہ کی جانب سے کیا جاتا تھا۔ پھر دوسری بار میں نے فارم نہیں بھرا اس لیے میرا اور ان ساتھیوں کا جو بورڈ کا فارم نہیں بھرے ہوئے تھے۔ ان کا سالانہ امتحان ہوا۔
سالانہ امتحان کے موقع پر سب سے پہلے سلم العلوم کا امتحان ہوا اور سب سے پہلے مجھے امتحان کے لیے بلایاگیا۔ اگرچہ سلم العلوم یہاں دوبارہ پڑھاتھا۔ لیکن جتنا مجھ کو پہلے سے دیا تھا۔ اس پر کچھ اضافہ نہ ہوا۔ سلم العلوم میں ممتحن نے جو کچھ مجھ سے پوچھا وہ فوراً میں نے پوری تفصیل سے بتادیا۔ امتحان کے بعد جب میں باہر نکلا تو ساتھیوں نے ایک ایک کرکے پوچھا : آپ سے کتاب میں کیا پوچھا ہے ہم کو بھی بتادیجئے وہی سب سے پوچھیں گے۔ میںنے دوتین منٹ میں خلاصہ بیان کردیا۔ واقعی ممتحن صاحب نے ان لوگوں سے بھی وہی پوچھا جو مجھ سے پوچھا تھا اور مجھے اسی (۸۰)نمبر دیا تو ان لوگوں کو بھی اسی(۸۰) نمبر ہی دیا۔ مجھے اس بات پر بڑا تعجب ہوا۔ واضح ہو کہ یہ تقریری امتحان تھا۔
یہاں مولانا مفتی عبدالعزیز صاحب عمری سے ترمذی شریف اور سراجی پڑھی۔ مولانا ان دونوں فنون میں بہت ماہر تھے۔ او رمولانا فیض الرحمٰن صاحب سے نسائی، شرح عقائد نسفی اور شاید سلم العلوم پڑھی۔ علامہ زماں ادیب ومحدث مولانا عبداللہ شائق مئوی سے سبع معلقہ پڑھی۔ ہمارے ماموں مولانا شکراللہ صاحب فیضی انہی کے شاگرد رشید تھے۔ پہلے شائق صاحب فیض عام میں پڑھاتے تھے۔ وہاں کے شیخ الحدیث تھے۔ کچھ اختلاف رونما ہوجانے کی وجہ سے یہ مدرسہ دارالحدیث اثریہ قائم کیا۔ ماموں صاحب کے تمام ترعادات وخصائل علامہ شائق ہی کی طرح تھے۔ شائق صاحب ایک بار ماموں صاحب کی دعوت پر مدرسہ مفتاح العلوم ٹکریا گئے تھے چونکہ دونوں ہی اعلیٰ ذہن کے مالک تھے اس وجہ سے بیشتر خصائص دونوں کے یکساں تھے۔
یہاں مدرسہ دارالحدیث میں دوکتابوں کا اعادہ ہوا سبع معلقہ اور سلم العلوم مگر سلم العلوم میں جتنی باتیں پہلے سے معلوم تھیں اس پر کچھ اضافہ نہ ہوا۔
اس کے بعد والے سال میں میرے سارے ساتھی دارالحدیث میں ساتویں جماعت چھوڑکر دورہ لے رہے تھے میری ابھی عمر ہی کیا تھی۔ الف، با بھی نہیں آتاتھا، فارغ ہوکر کیا کرتا۔ اس لیے میں فیض عام (مئو) چلاگیا۔ فیض عام کے اساتذہ میں استاذ نابغہ روزگار علامہ عبدالمعید (رحمۃ اللہ علیہ) بھی تھے۔ میرا امتحان انہی کے پاس پڑگیا۔ ان کے رعب علمی کے آگے بڑے بڑوں کا پتہ پانی ہوتا تھا۔ قسمت نے یاوری کی۔ اور وہاں کی چھٹی جماعت میں داخلہ ہوگیا۔ یہاں کی چھٹی جماعت دارالحدیث کی ساتویں جماعت کے مساوی تھی۔ اس لیے کہ یہاں ادنیٰ جماعت بھی پڑھائی جاتی تھی۔ جو دوسری جگہوں کی پہلی جماعت کے مساوی تھی۔ اس طرح ماشاء اللہ مجھے یہاں بھی ترقی مل گئی۔ عیدالاضحی کی تعطیل تک وہیں تعلیم حاصل کی۔
عیدالاضحی کی تعطیل سے قبل جامعہ سلفیہ (مرکزی دارالعلوم) بنارس کی جانب سے تعلیمی افتتاح کی کانفرنس تھی ۔ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے استاذ جلیل علامہ عبدالقادر شیبہ الحمد شیخ ابن باز کے مندوب تھے۔ انہوںنے طلبہ کو صحیح بخاری کا پہلا درس پڑھایا۔ اور یہ اعلان ہوا کہ عیدالاضحی کے بعد باقاعدہ تعلیم کا آغاز ہوجائے گا۔ میں بھی فیض عام کے بڑے طلبہ کے ساتھ اس کانفرنس میں شریک ہوا۔ دعوت شیرازی تھی۔ طعام وقیام کی کوئی پریشانی نہ ہوئی۔ مارچ کا آخری عشرہ تھا اس لیے اوڑھنا بچھونا تلاش کرنے کی جھنجھٹ نہ تھی۔ کہیں بھی جگہ ملی سوگئے۔ ویسے ہم لوگ جامعہ رحمانیہ کی پرانی بلڈنگ میں ٹھہرے تھے۔ اور اس بھیڑ میں موجود تھے جب شیوخ کی آمد کا مدنپورہ کی سڑک پر اژدہام کبیر لگاہواتھا۔
میرے تو گوشۂ خیال میں بھی کبھی یہ بات نہ آئی تھی کہ جامعہ سلفیہ میں میں بھی تعلیم کی غرض سے داخل ہوسکوں گا میرے خیال میں یہ بات تھی کہ اس میں چیدہ چیدہ قسم کے ہونہار اور اعلیٰ ذہن رکھنے والے طلبہ داخل ہوں گے۔ اور میںان کے پیر کی دھول کے برابر بھی نہیں۔ اسی لیے فیض عام سے عیدالاضحی کی تعطیل میں گھرگیا اور چھٹی گزار کر پھر فیض عام واپس آگیا۔ تین چاردن گذرے تھے، تعلیم بھی شروع ہوچکی تھی، کہ ایک دن کچھ طلبہ خصوصاً ڈاکٹر حافظ محمدیونس ارشد بلرامپوری (جو اس وقت فیض عام کے طالب علم تھے۔کئی سال پیشتر اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کی حسنات کو قبول فرماکر لغزشوں کو معاف کرے اور جنت الفردوس میں جگہ دے۔آمین) جامعہ سلفیہ میں داخلہ لے کر فیض عام مئو اپنا سامان لینے کی غرض سے آئے تھے۔ اور انہوںنے یہ اعلان کردیا کہ داخلہ عام ہے جو بھی چلے گا داخلہ قطعی طور پر ہوجائے گا۔ ان کے ساتھ طلبہ کا ایک جم غفیر جامعہ سلفیہ میں داخلہ کے لیے بعدنماز مغرب نکلا۔ مغرب کے بعد ایک پسنجرٹرین بنارس کے لیے تھی۔ میں شش وپنج میں پڑگیا کہ کیا کروں کیا نہ کروں۔دل میں تحریک تو ضرور پیدا ہوئی مگر میرا پورا سامان مجھ سے اٹھنے والا نہ تھا۔ بکس میں ناشتہ کا سامان بھرا ہوا تھا اور بستر میں لحاف وغیرہ تھا۔ عشاء کی جماعت کھڑی ہوئی تو میں نے کچھ حرکت کی۔ اتفاق سے قسمت نے ساتھ دیا۔ ایک طالب علم جو حافظ بھی تھے میر ے بغل کے کمرے میں رہتے تھے خود بخود آن پہنچے۔ مضبوط اور طاقت ور تھے۔ انہوںنے خود ہی کہا چلو تمہارا سامان سڑک تک میں پہنچادیتاہوں۔ مجھے انتہائی خوشی ہوئی۔ وزنی سامان انہوںنے اٹھالیا اور ہلکا سامان میں نے اٹھایا۔ عشاء کی نماز ہورہی تھی اور ہم لوگ بہ آسانی سڑک پر آگئے۔ بڑی مشکل سے رکشہ ملا (یہ حافظ صاحب شنکر نگر ضلع گونڈہ حال بلرامپور کے تھے۔ اس وقت بھی کوئی جان پہچان نہ تھی۔ اور اس مہربان سے اس کے بعدبھی ملاقات نہ ہوسکی کہ میں ان کے لیے شکریہ کے دولفظ کہہ دیتا۔ اللہ تعالیٰ ان کو جہاں کہیں بھی ہوں خیروعافیت سے رکھے اور اس نیکی کا دونوں جہان میں ان کو بدلا عطا فرمائے۔ آمین) رکشہ چل تو پڑا، مگر گاڑی کا اصل ٹائم نکل چکا تھا واپس بھی نہ جاسکتا تھا۔ کہ اب نماز ختم ہوچکی ہوگی۔ اساتذہ کو معلوم ہوجائے گا۔ اور اب نہ معلوم کب اور کون ٹرین ملے۔ یہی باتیں سوچتا ہوا اسٹیشن پہنچ گیا۔ پلیٹ فارم پرنظر گئی تو دیکھا کچھ طلبہ ابھی موجود ہیں۔ کچھ تسلی ہوئی۔ لڑکوں کی نظر بھی میری طرف اٹھی۔ ان میں سے بعض میرے پاس پہنچے۔ اور سامان اٹھاکر پلیٹ فارم پر لانے میں تعاون کیا۔ اور بتایا کہ ابھی ٹرین نہیں آئی ہے۔ میں نے اللہ تعالیٰ کا بہت بہت شکریہ اداکیا کہ اس کی مددسے میری کوشش کامیاب ہوگئی۔ بڑے کاروا ںکے ساتھ میں بھی شامل ہوگیا جس میں حافظ محمدیونس بلرامپوری بھی تھے۔ اور ادھر چوری بھی پکڑی نہ جاسکی۔ بہر حال اس طرح چوری چوری بنارس پہنچ گیا۔
دوتین روز کے بعد مولانا محمدادریس آزاد رحمانی نے ترمذی شریف کا امتحان لیا۔ اور ماشاء اللہ میرا داخلہ عالم ثالث (یعنی ابودائود کے سال میں فیض عام والی جماعت) میں ہوگیا۔
واضح رہے کہ اس وقت جامعہ سلفیہ کے نصاب میں عا لمیت کے چار سال تھے۔ پھر کئی روز داخلہ چلتا رہا۔ دارالحدیث اور فیض عام کے اکثر بیشتر ساتھی پھر ساتھ ہوگئے اور جامعہ رحمانیہ سے بھی وہ طلبہ ساتھ ہوگئے جو اس مرحلہ میں پہلے ہی سے جامعہ رحمانیہ میں پڑھتے تھے۔ اس طرح عا لمیت کی ساری جماعتیں جامعہ سلفیہ میں آگئیں اور جامعہ رحمانیہ میں مشکوٰۃ جلد اول تک (یعنی ثانویہ میں) تعلیم باقی رہی۔ تعلیم شروع ہوئی تو کچھ دن ہم لوگوں کے کھانے کا انتظام جامعہ رحمانیہ کے دارالاقامہ میں رہا۔ پھر بعد میں جامعہ سلفیہ میں بھی مطبخ چالو ہوگیا۔ تو دوپہر اور شام کو اتنی دور جانے کی زحمت سے ہم لوگ بچ گئے۔
شروع میں داخلہ امتحان کے وقت بہت آسانی سے کام لیاگیاتھا۔ اس لیے بہت سے کمزور طلبہ بھی داخل ہوگئے تھے۔ ششماہی امتحان کے موقع پر پتہ لگ گیا کہ بعض لوگ کمزور ہیں۔ اس لیے سالانہ امتحان میں اتنی سختی کی گئی کہ داخل شدہ طلبہ میںسے تقریباً ایک ثلث طلبہ نکال دیے گئے۔ اس وقت یہ قانون تھا کہ جو طالب علم ایک کتاب میں فیل ہوگا اس کا جامعہ سے اخراج ہوجائے گا۔ پھر دوسرے سال امتحان داخلہ میں سختی ہوئی اور صرف اتنی تعداد میں طلبہ داخل ہوئے جن کو ملاکر گذشتہ سال کی تعداد مکمل ہوگئی۔ اس وقت صرف ۴۰،۴۵طلبہ رہتے تھے۔ اس لیے کہ رہائش کے لیے صرف ۵کمرے تھے۔ جو جامعہ کی دوسری منزل پر قدیم لائبریری کے مشرقی جانب بنائے گئے تھے۔ ایک کمرے میں ۸سے ۱۰چارپائیاں رہتی تھیں۔ پھر بعد میں اور کمروں کی تعمیر ہوئی تو تعداد میں دھیرے دھیرے اضافہ ہوا۔ دوسال میں درجہ عا لمیت کی تکمیل ہوئی۔ بعض ساتھیوں نے یہیں سے ساتھ چھوڑدیا۔ انہوںنے یہاں کی تعلیم چھوڑ کر طب کی راہ اختیار کرلی۔ مثلاً ڈاکٹر عطا ء اللہ، ڈاکٹر عبدالباری، مولوی محمدمصطفی وغیرہ۔
پھر فضیلت کے کورس میں کچھ نیا داخلہ ہوا۔ اور دوسال مکمل ہونے پر ’’التخصص فی الشریعۃ‘‘ کی سند ملی۔ ہم لوگوں کی فراغت کے وقت ۳۱؍اکتوبر ویکم نومبر ۱۹۶۹ء؁ کو تقسیم اسناد کانفرنس ہوئی جس میں ہم لوگوں کو گون (چوغہ) پہنایاگیاتھا۔ شیخ عبدالوہاب البناء اس کانفرنس میں تشریف لائے تھے انہی کے مبارک ہاتھوں سے ہم لوگوں کو سندملی۔
افسوس کہ ہم کو وہ چوغہ نہیں مل سکا، پہننے کے بعد ہم لوگوں کو کہا گیا کہ اس میں کام باقی ہے، وہ بنوا کر آپ لوگوں کو دے دیا جائے گا، ایک طویل زمانہ تک یہی کہا گیا۔ پھر یہ ہوا کہ وہ فلاں کی تحویل میں ہے۔ اس طرح وعدہ کرکے یہ کہا گیا کہ معلوم نہیں کیا ہوا اور کون لے گیا۔ صرف دکتور محفوظ الرحمٰن صاحب کسی موقع پر جامعہ آئے اور اپنا چوغہ لے کر چلے گئے۔ باقی کوئی نہیں پاسکا۔


اساتذہ کرام


(۱) جامعہ سلفیہ میں ہم نے جن اساتذہ کرام کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا ان میں درج ذیل اساتذہ کرام تھے۔
یکتائے روزگار، ہر فن مولا، صاحب تصانیف کثیرہ استاذ الاساتذہ، علامہ حافظ قاری کاتب حکیم مولانا عبدالمعید صاحب بنارسی رحمۃ اللہ علیہ ( دسمبر ۱۹۸۰ء ؁ان کی وفات پر میں نے ایک تعزیتی نظم لکھی تھی جو بے حد مقبول ہوئی۔ غفراللہ لہ وجعل الجنۃ مثواہ
(۲) مولاناعظیم اللہ صاحب مئوی رحمۃ اللہ علیہ
(۳) مولانا عبدالوحید محمدابوالقاسم رحمانی بنارسی شیخ الجامعہ رحمۃ اللہ علیہ
(۴) صاحب طرز ادیب وشاعر مولانا محمدادریس آزاد رحمانی رحمۃ اللہ علیہ
(۵) مولانا شمس الحق صاحب سلفی رحمۃ اللہ علیہ شیخ الحدیث
(۶) مولانا محمدعابدرحمانی رحمۃ اللہ علیہ
(۷) اردوعربی فارسی کے صاحب طرز ادیب صاحب تصانیف کثیرہ ، جامعہ سلفیہ کے علمی وقار، مجلہ صوت الامۃ عربی کے تاسیسی مدیر استاذنا حافظ ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری رحمتہ اللہ علیہ ہندوستانی عربی مدارس کے سب سے پہلے ڈاکٹر (پی ،ایچ،ڈی) مدرس تھے۔
(۸) مولانا امان اللہ فیضی بہاری
(۹) شیخ صالح العراقی (استاذ جامعہ اسلامیہ مدینہ)
(۱۰) شیخ دکتور ربیع ہادی مدخلی (استاذ جامعہ اسلامیہ مدینہ)
(۱۱) شیخ ہادی الطالبی (استاذ جامعہ اسلامیہ مدینہ) (یہ اساتذہ جامعہ اسلامیہ کی طرف سے جامعہ سلفیہ (مرکزی دارالعلوم )بنارس کو ملے تھے) (ان کے بعد بعض اور شیوخ بھی جامعہ میں تشریف لائے مگر وہ ہمارے استاذ نہیں ہیں)
(۱۲) ماسٹر اعجاز احمد صاحب بنارسی
(۱۳)ماہر زبان انگریزی ماسٹر شمس الدین بنارسی
(۱۴)قاری ماسٹر عبدالحمید صاحب جونپوری رحمۃ اللہ علیہ
(۱۵)ماسٹرحمیداللہ صاحب جون پوری رحمۃ اللہ علیہ

Related posts

رفقائے درس

Paigam Madre Watan

کچھ اپنی زُباں سے

Paigam Madre Watan

جامعہ سلفیہ میں تقرری

Paigam Madre Watan

Leave a Comment