Articles مضامین

تو اے مسافر شب خود چراغ بن اپنا

ڈاکٹر سید ابوذر کمال الدین


ایک وقت تھا اس ملک پر باہر سے آئے قدیم آریاؤں کی حکومت تھی۔ پھر وسط ایشیاء سے حملہ آوروں کے غول در غول آئے پھر مغل راج کرتے تھے۔پھر مراٹھوں اور سکھوں کا زور بڑھا اور تب انگریز آئے جنہوں نے سب کو زیر کر لیا۔ایک طویل جدوجہد کے بعد انگریز اس ملک کو دو پھاڑ کر کے چلے گئے۔ آزادی کے بعد کانگریس نے حکومت کی۔اب اس کا سورج غروب ہوا چاہتا ہے۔اس کی کوئی تدبیر کارگرنہیں ہو رہی ہے۔اس وقت ملک میں ہنگریزوں کا راج ہے جو نسلاً ہندوستانی ہیں لیکن ذہنی طور پر جرمن آریائی نسل کے مشابہ ہیں۔ یہ بھی اس ملک میں یورپ سے ہوتے ہوئے سنٹرل ایشیا سے آئے ہیں مگر اپنی قدیم تاریخ کو جھٹلا کر خود کو سن آف دی سوایل بتاتے ہیں۔بہر حال یہ اوریجنل نہیں مکسڈریس ہیں اس لیے میں اسے ہندو یا سناتنی کہنے کہ بجائے ہنگریز کہتا ہوں۔ ان کی قومیت ہندو ہے مگر ذہنیت انگریز والی ہے باٹو اور راج کرو یہ ان کی دھرم نیتی ہے۔میکاولی اور چانکیہ ان کے دو گرو ہیں اور منو مہاراج ان کے بھشم پتاما ہیں۔
ان کو بھارت کے مسلمانوں سے نفرت ہے جس کو وہ چھپا تے نہیں ہیں۔ان کی دیش بھکتی اس وقت تک پرمانک نہیں مانی جائے گی جب تک وہ مسلمانوں کے خلاف کچھ نہ کچھ بولیں اور روزانہ ان کو ایک دو لات رسید کر ان کو اپنی اوقات نہ یاد دلا دیں۔
وہ ما نتے ہیں کہ اتہاس میں انہیں پہلی بار یہ موقعہ ملا ہے تو کھل کر اپنے دل کا بھڑاس نکال لیں۔ انہیں اتہاس کا بہت سا حساب چکتا کر نا ہے۔ اس وقت ان کا گھمنڈ ساتویں آسمان پر ہے۔یہ کہنا مشکل ہے ان کا شاشن کتنے دنوں کا ہوگا۔ آثار بتارہے ہیں ابھی کچھ دن تو رہے گا۔وہ مسلمانوں کو اپنا دشمن نمبر ایک مانتے ہیں۔ ڈی این اے ایک ہونے کے باوجود ان کو بدیسی مانتے ہیں۔ ایک طرف وسو دیو کٹمبکم کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف اپنے ہی دیس واسیوں کو پرایا مان کر ویوہار کرتے ہیں۔اس وقت ان کے ہاتھ میں اقتدار ہے اور ان کے دل میں انتقام کی آگ سلگ رہی ہے اور تاریخ کی تمام مفروضہ غلطیوں کا انتقام لینے کہ درپے ہیں اس معاملے میں بیشتر سیاسی پارٹیوں، پریس،عدلیہ اور سول سوسائٹی کی حمایت ان کو حاصل ہے۔ ان کا الیکٹورل سکسس اس کی دلیل ہے۔ انہوں نے آشو میگھ کا جو گھوڑا چھو ڑ رکھا ہے کم از کم ہندی پٹی میں اس کا لگام تھامنا مشکل ہے۔
اس کے باوجود کہ مسلمان ان کے سامنے کوئی سیاسی چیلنج کھڑی کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں اور مسلمان کہیں بھی ان کے سیاسی مقابل نہیں ہیں۔بی جے پی اور سنگھ پریوار نے اپنی پوری پول اسٹریٹجی اینٹی مسلم بیانیے پر بنائی ہے۔ وہ اس وقت چار محاذ پر کام کر رہے ہیں:
(۱) سیاسی بھید بھاؤ Apartheied Political
(۲) معاشی مقاطعہ Economic Boycott
(۳) سماجی اچھوت Social Untouchability
(۴) تہذیبی دوری Cultural Distancing
اس سب کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مسلمانوں کو عام دھارے سے کاٹ کر ایکghettos میں دکھیل دیا جائے اور ان کا سماجی اور معاشی بائیکاٹ کے ذریعہ ان کے لیے گنجائشیں کم سے کم کر دی جائیں اور مستقل خوف اور عدم تحفظ کا احساس پیدا کرکے ان کو اس قدر نفسیاتی طور پر کمزور کر دیا جاے کہ وہ اپنی جان بچانے اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے خود بخود مسلمان خیمے سے نکل کر ان کے خیمے میں آجائیں۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ بہت سے لوگ جو اپنا کفر چھپا ئے ہوئے تھے کھل کر زنار پہن کر میدان میں آگئے ہیں اور مسلمانوں کا منہ بھی چڑھا رہے ہیں بلکہ صاف صاف کہہ بھی رہے ہیں کہ عافیت چاہتے ہو تو ادھر آجاؤ۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ یہ ایک سوچی سمجھی انتقامی کارروائی ہے جسے پوری ڈھٹائی سے انجام دیا جا رہا ہے۔
راہ عمل
سوال یہ ہے کہ ہم کیا کریں ؟ جو اب آسان بھی ہے اور مشکل بھی۔ اگر ہم اس پر یقین کریں اور عمل کریں تو آسان ہے، ورنہ اس پھندے سے نکلنا بے حد مشکل ہے۔
پہلی چیز یہ ہے کہ ہمیں ڈرنا نہیں ہے اور نہ گھبرا نا ہے۔ ہم نے اگر اس مقام پر کمزوری نہیں دکھائی تو سمجھ لیجئے ہم نے پہلی بازی جیت لی۔
دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ہمیں فی الوقت الجھنا نہیں ہے بلکہ کمال صبر وضبط اور پا مردی کا مظاہرہ کر نا ہے۔
تیسری چیز جو سب سے مشکل ہے وہ آپس میں جڑے رہنا اور متحد رہنا ہے۔ کہا جاتا ہے جب تک متحد رہیں گے ہم کھڑے رہیں گے اور جب ہم ٹوٹ جائیں گے تو بکھر جائیں گے۔اس لیے جہاں تک ممکن ہو سکے آپس میں مقامی سطح سے لے کر مر کزی سطح تک مشترکہ امور پر مشترکہ حکمت عملی سے کام لینا چاہیے۔ اس کے لیے سب کا ایک قیادت یا ایک جھنڈے کے نیچے آنا ضرور ی نہیں ہے بلکہ مقصد میں اتحاد ضرور ی ہے جو جہاں ہے وہیں سے آواز لگائے کہ ہم ایک ہیں۔ان اصولی باتوں پر اتفاق ہو جاتاہے تو آگے کی حکمت عملی طے کر نا آسان ہو جائے گا۔
ہم لوگوں کو اکثر یہ شکایت رہتی ہے کہ ہمارا کوئی قائد نہیں ہے۔ اس بات میں کچھ سچائی ضرور ہے۔تو کیا ہم کسی قائد کے انتظار میں اپنا ہاتھ پاؤں توڑ کر بیٹھے رہیں یا خود قائد بن جائیں۔ آپ کو دوسروں کی قیادت نہیں کرنی ہے بلکہ اپنی قیادت خود کرنی ہے۔ اس وقت ہم لوگوں کو مائیکرو اپروچ کو ترجیح دینی ہے۔
ہر گارجین چار کام کریں:
پہلا اپنے بچوں لڑکا لڑکی دونوں کی اچھی سے اچھی تعلیم جتنا ان کے حالات وسائل اور مقام پر ممکن ہے دلا نے کی بھرپور کوشش کریں۔ اگر اس میں کوئی کمی رہ جاتی ہے تو مقامی طور پر جو لوگ تعلیم کے میدان میں کام کر رہے ہیں ان سے مدد لیں۔ خاص طورسے کوئی بچہ جو ٹیلنٹیڈ ہے مگر پیسہ اور رہنمائی کی وجہ سے وہ تعلیم سے محروم نہ رہے۔ اس کے بارے میں مقامی سطح پر کمیونٹی ہیلپ لائن بنانا بہت ضروری ہے۔
دوسرا کام بچوں کے ایمان اور اخلاق کی نگرانی کرنا ہے۔ بچوں کی بنیاد ی ابتدائی تعلیم اپنے دینی ماحول میں ہونی چاہیے اور اپنی مادری زبان میں دی جانی چاہیے۔ گھر کے ماحول کا بچوں کے اخلاق اور کردار پر بہت اثر پڑتا ہے۔ اس لیے اس کو اچھا رکھنا ما ں باپ کی ذمہ دار ی ہے۔
تیسری چیز بچوں کی اچھی پر ورش اور صحت کا خیال رکھنا ہے۔ ان کو حسب وسائل اچھا کھلا نے پلانے کے ساتھ ساتھ اچھی جسمانی ورزش کی عادت ڈالنی ہے اور ایسا کھیل کھیلنے کی طرف شوق دلا نا ہے جس میں جسمانی محنت اور ورزش ہوتی ہے۔
چوتھا کام بچوں کے اندر مسجد سے جڑنے اور ان کے اندر دین سے شوق، اللہ کا خوف،رسول سے محبت اور ان کی اطاعت کا جذبہ ،آخرت کی جوابدہی کا احساس اور قرآن و سیرت سے شغف پیدا کرنے کا جتن کرنا ہے۔
یہ سب کام ایک گارجین کر سکتے ہیں۔اس کے لیے کسی بڑی قیادت کی ضرور ت نہیں ہے۔ہر آدمی خود قائد بن جائے اور پورے ایمانی شعور کے ساتھ اپنے گھر والوں کی بھلائی کی کوشش کرے اور جہاں کمی رہ جائے تو ملت آگے بڑھ کر اس کی مدد کرے تو اس حکمت عملی سے ملت کا پچاس فیصد مسئلہ حل ہو جائے گا۔
معاشی مقاطعہ ایک بڑا مسئلہ ہے جس کا باہمی مواخات اور امداد باہمی کے ذریعے مقابلہ کرنا ہے۔بازار سے بھا گنا نہیں ہے بلکہ ڈ ٹ کے اور جم کے رہنا ہے اور اپنا بازار خود بنا کر کام کرنا ہے۔
سماجی اور تہذیبی دوری پیدا کر نے کی جو کوشش کی جارہی ہے۔ ہمیں بد دل نہیں ہونا ہے بلکہ خدمت اور شرافت کے ساتھ ہندو سماج اور سبھی سماج سے جڑ کے رہنا ہے۔ وہ چاہیں تو ہم سے کٹ کے رہیں لیکن ہم سہی معنی میں الخلق عیال اللہ میں یقیں رکھتے ہیں اور پوری انسانیت کو ایک خاندان مانتے ہیں اوروحدت انسا نیت میں یقین رکھتے ہیں اس لیے ہماری حکمت عملی جڑ کے رہنے کی رہی ہے اور آگے بھی یہی رہے گی۔
سیاسی طور پر ہما را موقف صاف ہے۔اس کے باوجود کہ سیکولر سیاسی پارٹیوں نے مسلمانوں کے ساتھ نا انصافی کی ہے اور ان کی نیت اور نیتی دونوں میں کھوٹ ہے۔ مگر ہم خود سے زیادہ ملک کے مفاد میں سوچتے ہیں۔ ملک میں دستور کی حفاظت،سیکولرزم اور جمہوریت کے تحفظ کے لئے ہمارا و وٹ ان پارٹیوں کو جائے گا جو ان اقدار کی علم بردار ہیں۔ ہمارے لیے ملک اور ملک کے لوگ پہلے ہیں ہمارا مفاد اس کے بعد ہے۔
یہ چند اشارات ہیں جس پر ملت کے ہر فورم میں کھل کر بحث ہونی چاہیے۔

Related posts

دولت اور صحت کی بربادی

Paigam Madre Watan

लक्षद्वीप की प्रधानमंत्री की तस्वीरों ने यूं ही नहीं मचाई हलचल

Paigam Madre Watan

انتشار کے ہر دروازے کو بند کردیجیے

Paigam Madre Watan

Leave a Comment