Articles مضامین

قرآن میںدعا کا فلسفہ ، جس سے مسلمان ناواقف ہیں

(۱) دعا اللّٰہ سے کیسے مانگنی چاہئے
اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے،یقینا وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔(الاعراف:۵۵)
(۲) دعا کا جواب اللّٰہ ہر بندے کو دیتا ہے:
اور ثمود کی طرف ہم نے اُن کے بھائی صالح کو بھیجا۔ اُس نے کہا اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی بندگی کرو، اُس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے۔وہی ہے جس نے تم کو زمین سے پیدا کیا اوریہاںتم کو بسایا ہے۔ لہٰذا تم اُس سے معافی چاہو اور اُس کی طرف پلٹ آؤ،یقینا میرارب قریب ہے اور وہ دعاؤں کا جواب دینے والا ہے۔(ہود:۶۱)
(۳) دعا مانگنے کی اہمیت:
اے محمدﷺ! لوگوں سے کہو میرے رب کو تمہاری کیا حاجت پڑی ہے اگر تم اُس کو نہ پکارو۔اب کہ تم نے جھٹلا دیا ہے،عنقریب وہ سزا پاؤ گے کہ جان چھڑانی محال ہوگی۔(الفرقانـ۷۷)
تمہارا رب کہتا ہے مجھے پکارو میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا۔جو لوگ گھمنڈ میں آ کر میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں، ضرور وہ ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔(مومن:۶۰)
(۴) دعا پریشان حال کی اللّٰہ سنتا ہے:
کون ہے جو بے قرار کی دعا سنتا ہے جب کہ وہ اُسے پکارے اور کون اُس کی تکلیف رفع کرتا ہے اور(کون ہے جو)تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے؟کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی(یہ کام کرنے والا) ہے؟ تم لوگ کم ہی سوچتے ہو۔(النمل:۶۲)
ہم نے حکم سنا اوراطاعت قبول کی۔مالک ! ہم تجھ سے خطا بخشی کے طالب ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف پلٹنا ہے۔ (البقرۃ: ۲۸۵) پروردگار جب تو ہمیں سیدھے رستے پر لگا چکا ہے تو پھر کہیں ہمارے دلوں کوکجی میں مبتلا نہ کر دیجیو۔ تو اپنے خزانۂ فیض سے رحمت عطا کر کہ تو ہی فیاض حقیقی ہے۔پروردگار! تو یقینا سب لوگوں کو ایک روز جمع کرنے والا ہے، جس کے آنے میں کوئی شک نہیں، تو ہرگز اپنے وعدے سے ٹلنے والا نہیں ہے۔(آل عمران:۸،۹) یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ مالک! ہم ایمان لائے، ہماری خطاؤں سے درگزر فرما اور ہمیں آتش دوزخ سے بچالے۔(آل عمران:۱۶)
ان آیات میں کہا جا رہا ہے کہ اللہ سے دعا کیسے مانگنی چاہئے،اور یہ کہ اللہ تعالیٰ بندے کی دعا سنتا ہے اور اُس کا جواب بھی دیتا ہے۔اللہ سے دعا نہیں مانگنا انسان کے غرور اور گھمنڈ کی نشانی ہے جو ایساگناہ ہے جس کی معافی ہی نہیں ہے۔ بندہ اگر اللہ سے دعا نہیں کرے گاتو اس سے اللہ کا کوئی نقصان نہیں ہوگا بلکہ بندہ ہی اللہ کی رحمت سے محروم رہے گا۔اللہ سے دعا نہیں مانگنا ایسا گناہ ہے جس کی سزادنیا میں ذلیل و رسوا ہونا ہے اورموت کے بعد جہنم ہے۔جب پریشان حال بندہ اللہ سے دعا کرتا ہے تو وہ فوراً اُس کی دعا سنتا ہے اور بندے کو تکلیف سے نجات دلاتا ہے۔جو لوگ گمراہی سے نکل کر ہدایت پا گئے وہ اللہ تعالیٰ سے اپنے ایمان کی سلامتی کی دعا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایسا نہ ہو کہ ہم پھر گمراہی کے جنگل میں کھو جائیں۔نیک بندے اللہ تعالیٰ سے ہر وقت اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہتے ہیں اور اُنہیں اس پر ایمان ویقین رہتا ہے کہ ایک دن اس دنیا کو چھوڑ کر واپس اللہ کے پاس جانا ہے۔
(۵) ہم اللّٰہ سے کیا دعائیں مانگیں:
اور جب وہ جالوت اور اُس کے لشکروں کے مقابلے پر نکلے،تو اُنہوں نے دعا کی:اے ہمارے رب ہم پر صبر کا فیضان کر، ہمارے قدم جما دے اور کافر گروہ پر ہمیں فتح نصیب کر۔(البقرۃ:۲۵۰)
اُن کی دعا بس یہ تھی کہ اے ہمارے رب ! ہماری غلطیوں اورکوتاہیوںسے درگزر فرما،ہمارے کام میں تیرے حدود سے جو تجاوز ہو گیا ہو اُسے معاف کر دے، ہمارے قدم جما دے اور کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔(آل عمران:۱۴۷)
کہو خدایا ! ملک کے مالک تو جسے چاہے حکومت دے اور جس سے چاہے چھین لے۔ جسے چاہے عزت بخشے اور جس کو چاہے ذلیل کر دے ۔ بھلائی تیرے اختیار میں ہے ۔ بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔ ( )رات کو دن میں پروتا ہوا لے آتا ہے اور دن کو رات میں۔ بے جان میں سے جان دارکو نکالتا ہے اور جاندار میں سے بے جان کو۔ اور جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔(آل عمران:۲۶،۲۷)
پاک ہے وہ جس نے ہمارے لئے ان چیزوں کو مسخر کر دیا ورنہ ہم انہیں قابو میںلانے کی طاقت نہیں رکھتے تھے ()اور ایک روز ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے۔(الزخرف:۱۳،۱۴)
جواٹھتے بیٹھتے اور لیٹے ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں اور زمین و آسمانوں کی ساخت میںغور و فکرکرتے ہیں۔(وہ بے اختیار بول اٹھتے ہیں) پروردگار! یہ سب کچھ تونے فضول اور بے مقصد نہیں بنایا ہے، تو پاک ہے اس سے کہ عبث کام کرے۔پس ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے۔ (آل عمران:۱۹۱)
اور اے نبیﷺ میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں، تو اُنہیں بتا دو کہ میں اُن سے قریب ہی ہوں۔پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے، میں اُس کی پکار سنتا ہوںاور جواب دیتا ہوں۔لہذا اُنہیں چاہئے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں۔ یہ بات تم اُنہیں سنا دو شاید کہ وہ سیدھا راستہ پالیں۔(۱۸۶)
خداوندا! جو وعدے تو نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے کئے ہیں اُن کو ہمارے ساتھ پورا کر اور قیامت کے دن ہمیں رسوائی میں نہ ڈال، بیشک تو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے۔(آل عمران:۱۹۴)
اہل ایمان کو دنیا میں ہمیشہ اہل کفر و شرک کی دشمنی اور عداوت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اہل ایمان تعداد میں کم اور اہل کفر تعداد میں زیادہ ہیں، اس لئے مومن بندے کو دشمنوں سے مقابلہ کرنے میں اللہ سے مدد مانگنا لازمی اور ضروری ہے۔اہل ایمان کو اہل کفر کا غلام بن کے نہیں بلکہ اُن سے آزاد رہ کر زندگی گزارنی ہے تب ہی وہ اسلامی شریعت پر پوری طرح عمل کر پائیں گے، اس لئے اہل باطل کے غلبے سے محفوظ رہنے کی دعا سب سے زیادہ مانگنی ہے۔اہل ایمان یہ بھی جانتے ہیں کہ اُنہیں دنیا میں جو کچھ ملا ہے اللہ کے فضل و کرم سے ملا ہے اس لئے وہ ہر حال میں دعا مانگتے رہتے ہیں اور قیامت میں رسوائی سے پناہ کی دعا بھی خاص طور پر کرتے ہیں۔
(۶) دعا مانگنے کی شرط کیا ہے ؟
یقینا جن لوگوں نے کہہ دیا کہ اللہ ہی ہمارا رب ہے، پھر اُس پر جم گئے،اُن کے لئے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ایسے لوگ جنت میں جانے والے ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، اپنے اُن اعمال کے بدلے جو وہ دنیا میں کرتے رہے ہیں۔(احقاف:۱۳،۱۴)
وہی زندہ ہے ، اُس کے سوا کوئی معبود نہیں، اُسی کو تم پکارو اپنے دین کو اُس کے لئے خالص کر کے،ساری تعریف اللہ رب العالمین کے لئے ہے۔(مومن:۶۵)
جو لوگ اللہ پر پکا پختہ ایمان رکھتے ہیں اور اللہ کے سوا نہ کسی سے امید رکھتے ہیں، نہ اللہ کے سوا کسی پر بھروسہ کرتے ہیں نہ اللہ کے سوا کسی سے ڈرتے ہیں، اُن کے لئے اللہ کا وعدہ ہے کہ دنیا میں وہ اللہ کے دوست ہیں اُن کو نہ جان کا خوف ہوگا اور نہ مال و اسباب کا کوئی نقصان ہوگا۔
(۷) دعاصرف اللّٰہ سے مانگنا برحق ہے:
اُسی کو پکارنا بر حق ہے، رہیں وہ دوسری ہستیاں جنہیں اُس کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں وہ ان کی دعاؤں کا کوئی جواب نہیں دے سکتیں، اُنہیں پکارنا تو ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص پانی کی طرف ہاتھ پھیلا کر اُس سے درخواست کرے کہ تومیرے منہ تک پہنچ جا، حالانکہ پانی اُس تک پہنچنے والا نہیں۔بس اسی طرح کافروں کی دعائیں کچھ نہیں ہیں مگر ایک بغیر نشانے کا تیر۔(الرعد:۱۴)
تم لوگ خدا کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہووہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو۔اُن سے دعائیں مانگ کر دیکھو، یہ تمہاری دعاؤں کا جواب دیں اگر ان کے بارے میں تمہارے خیالات صحیح ہیں۔(۱۹۴)کیا یہ پاؤں رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں ؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں ؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ اُن سے دیکھیں ؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ اُن سے سنیں ؟ اے محمد ﷺ ان سے کہو کہ بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو، پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو۔(۱۹۵)اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو،میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے۔(۱۹۶)بہ خلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھور کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کر سکتے ہیں اور نہ خود اپنی ہی مدد کرنے ک قابل ہیں۔ (الاعراف: ۱۹۴،۱۹۷)
آخر اُس شخص سے زیادہ بہکا ہو ا انسان اور کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پکارے جو قیامت تک اُس کو جواب نہیں دے سکتے، بلکہ اس سے بھی بے خبر ہیں کہ پکارنے والے ان کو پکار رہے ہیں۔(احقاف:۵)
انہیں پکارو تو وہ تمہاری دعائیں سن نہیں سکتے اور سن لیں تو ان کا تمہیں کوئی جواب نہیں دے سکتے …اور قیامت کے روز وہ تمہارے شرک کا انکار کر دیں گے۔حقیقت حال کی ایسی صحیح خبر تمہیں ایک خبردار کے سوا کوئی نہیں دے سکتا۔(فاطر:۱۴)
اللہ کے سوا کسی دوسرے سے دعا مانگنا یا کسی کے وسیلے سے دعا مانگنا نادانی، جہالت اور گناہ ہے۔اہل کفر و شرک تو چاہتے ہیں کہ اہل ایمان عقیدہ توحید سے محرو م ہو جائیں اور ایک اللہ کی بندگی کی جگہ دوسرے جھوٹے نقلی معبودوں کی بھی بندگی کریں اور اُن سے دعائیں مانگیں۔گمراہ لوگ اللہ کے سوا جن سے دعائیں کرتے ہیں بتایا جارہا ہے کہ اُن کو تو معلوم بھی نہیں ہوتا کہ کون اُن سے کیا دعا مانگ رہا ہے۔
(۸) دعا فضل الٰہی کے لئے
اور جو کچھ اللہ نے تم میں سے کسی کو دوسرے کے مقابلے میں زیادہ دیا ہے اُس کی تمنا نہ کرو جو کچھ مردوں نے کمایا ہے اُس کے مطابق اُن کا حصہ ہے اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے اُس کے مطابق اُن کا حصہ۔اللہ سے اُس کے فضل کی دعا مانگتے رہو،یقینا اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔( النساء:۳۲)
اللہ نے کسی کو زیادہ دیا ہے کسی کو کم دیا ہے۔اللہ کی اس تقسیم کو انسانی کوشش سے بدلا نہیں جا سکتا ہے۔کہا جارہا ہے کہ جن لوگوں کو اللہ نے محتاج بنایا ہے اس میں اُس کی حکمت چھپی ہوئی ہے۔محتاج بندے کو ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرتے رہنا چاہئے اور اُس کے فضل کی دعا کرتے رہنا چاہئے۔دوسرے کو اچھی حالت میں دیکھ کر اُس سے جلنا اور حسد کرنا گناہ ہے اور اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
(۹) دعا غیر اللّٰہ سے مانگنا شرک ہے:
ان سے کہو ، پکار دیکھو اُن معبودوںکو جن کو تم خداکے سوا(اپنا کارساز)سمجھتے ہو،وہ کسی تکلیف کو تم سے نہ ہٹا سکتے ہیں نہ بدل سکتے ہیں۔(بنی اسرائیل:۵۶)وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میںخلیفہ بنایا ہے۔ اب جو کوئی کفر کرتا ہے اُس کے کفر کا وبال اُسی پر ہے۔اور کافروں کو اُن کا کفر اس کے سوا کوئی ترقی نہیں دیتاکہ اُن کے رب کا غضب اُن پر زیادہ سے زیادہ بھڑکتا چلا جاتا ہے۔ کافروں کے لئے خسارے میں اضافے کے سوا کوئی ترقی نہیں۔ (فاطر:۳۹)اور اللہ ٹھیک ٹھیک بے لاگ فیصلہ کرے گا۔رہے وہ جن کو(یہ مشرکین) اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہیں، وہ کسی چیز کا بھی فیصلہ کرنے والے نہیں ہیں۔بلا شبہہ اللہ ہی سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔(مومن:۲۰)
کاش میرا یہ مضمون پڑھنے والے قرآن کی باتوں کو سمجھیں اور اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو بھی سمجھائیں !!

Related posts

سعودیہ سے بغض کی وجہ کچھ سوا ہے

Paigam Madre Watan

وقت کی اہمیت اور مسلم معاشرہ

Paigam Madre Watan

नीतीश जी लें सम्मानजनक विदाई

Paigam Madre Watan

Leave a Comment