Articles مضامین

عید کی اہمیت و ضروت

محمد سعد شادؔ سیوہاروی


انسان فطرتاً عید کا خواستگار ہیں، جس کی تفصیل یہ ہے کہ؛ انسان کے دل میں خوشی و غمی دونوں رکھی گئیں ہے، اور انسان فطرتاً خوشی و سرور کا متلاشی و تمنائی ہوتا ہے، وہ غموں سے دور رہ کر اجتماعی طور پر بزمِ مسرت سجانے کا خواہشمند رہتا ہے۔ لیکن عام حالات میں اس کی یہ آرزو پائے تکمیل تک نہیں پہنچ پاتی، جس کی وجہ یہ ہے کہ؛ حیات انسانی میں نشیب وفراز آتے رہتے ہیں، جس کے باعث انسان کبھی خوشیوں کی بہاریں دیکھتا ہے، تو کبھی غموں کی تاریکیوں کا سامنا کرتا ہے۔ چنانچہ ایک ہی دن ایک شخص کے لیے باعث مسرت ہوتا ہے تو دوسرے کے لیے باعث کلفت، ہر ایک دن ہر ایک شخص کے لیے لائق عظمت، فرحت رساں اور مسرت افزا ہو؛ یہ بہت مشکل ہے۔ کیونکہ؛ انسان کے قلب میں خوشی و غمی دونوں رکھی گئیں ہیں۔ اور انسان فطری طور پر خوشی کی بنسبت غمی سے زیادہ متأثر ہوتا ہے۔
اور یہ بھی حقیقت ہے کہ انسان معاشرتی، سیاسی، سماجی اور اقتصادی مسائل و حالات سے متأثر ہوکر نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہونے لگتاہے، اور تدریجاً غموں کے تھپیڑوں میں پڑ جاتا ہے، اس کے خانہ دل سے خوشیوں کے چراغ بجھنے لگتے ہیں، حتیٰ کہ اگر اسے ان مسائل کے سمندر سے نکال کر، ساحل شادمانی کی طرف نہ لایا جائے، تو بہت ممکن ہے کہ اس میں ودیعت کیا گیا خوشیوں کا قدرتی عنصر، بلکل ماند پڑجائے، اس کی خوشیوں کا آفتاب غروب ہوجائے، اس کے دل و دماغ کی سر سبز و شادابی خزاں سے بدل جائے، جس کے نتیجے میں وہ نفسیاتی مریض ہوجائے، اور اس کی خوشی،غمی سے اور انسانیت، حیوانیت سے بدل جائے، اس میں جذبۂ ہمدردی و ترحم باقی نہ رہے، اس کے اندر حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت ختم ہوجائے۔ اسلیے کہ؛ خوشی ارزاں اور غم سستا ہوتا ہے، خوشی کو حاصل کرنا پڑتاہے اور غم مل جاتا ہے۔
خوشی سائبان اور غم دھوپ جیسا ہے۔ خوش رہنے کے لیے خوش کن سائبان کی تلاش و جستجو کرنی پڑتی ہے، اور سایے خوشی سے نکلتے ہی غموں کی دھوپ گھیرنے لگتی ہے۔ اور واقعہ یہ ہے کہ ایک خوش دل شخص اپنی محنت و کاوش سے دنیا بدل سکتا ہے، جبکہ؛ اس کے بر عکس ایک غمگین آدمی، کو اپنی دنیا سے ہی فرصت نہیں ملتی؛ چہ جائیکہ وہ دنیا بدلے، جو اپنے غموں کی تاریک وادیوں میں بھٹکتا پھرتا ہے، وہ دوسروں کو راہ کیسے دکھائے، وہ اپنی الجھنیں سلجھانے میں ہی رہ جاتاہے، جبکہ غموں کے تھپیڑوں سے آزاد رہ کر، خوشیوں میں زندگی بسر کرنے والا، ترقیوں کے منازل طے کرتا چلا جاتاہے۔ایک غموں اور الجھنوں میں الجھا ہوا شخص_جو اپنے آپ کو سلجھانے اور حوصلہ دینے کی طاقت و ہمت نہیں رکھتا_اس کے لیے دوسرے لوگوں کو سہارا دینا، ان کے معاملات کو سلجھانا، ان کی حوصلہ افزائی کرنا اور ان کے ساتھ نرمی و ہمدردی کا مظاہرہ کرنا؛ بہت مشکل امر ہے۔ لہذا انسانی زندگی کو حالات کے تھپیڑوں سے نکال کر، خوشگوار رکھنے، اس میں خوشیوں کی تازگی بخشنے، اور اس کی پھیکی اور بے رنگ زندگی میں خوشحالی کا رنگ و روغن بھرنے، اور حیات انسانی کو دکھوں، تکلیفوں اور غموں سے مبرا و منزہ کرنے اور حالات و حوادثات کے سبب فرحت و مسرت کے بھجتے ہوئے چراغوں کو از سر نو روشن کرکے فروزاں رکھنے کے لیے؛ کچھ ایسے لمحات و ایام ناگزیر ہیں؛ جن میں انسان اپنے تمام تر مسائل اور آلام و مصائب سے آزاد ہوکر، زندگی سے لطف اٹھا سکیں، اپنی بکھری ہوئی زندگی کو از سر نو ترتیب دیکر خوش گوار زندگی گزارنے والا بن جائے، تاکہ اس کی زندگی میں پھر سے خوشیوں کی لہریں دوڑنے لگیں۔ نیز اعزاء و اقرباء سے ملکر ماضی میں ہوئیں دانستہ وغیر دانستہ تلخیوں کو نذر انداز کرتے ہوئے، گذشتہ گلے شکوے دور کر کے، باہم گلے مل سکیں، گروپ بندی ذات پات اور خاندانی اختلافات مٹا کر، ایک دوسرے کے ہمدرد اور خیر خواہ ہو جائیں، غرباء کی امداد کریں، ان کا خیال رکھیں، انھیں اپنے گھر بلاکر، سینہ سے لگاکر، غریبی و امیری کا امتیاز ختم کردیں۔ الغرض؛ انسانوں کو حزن و ملال سے آزاد رکھ کر، ان میں خوشی و سرور کی رعنائیاں بھرنے کے لیے کچھ ایسے دن بہت ضروری ہے_جن میں غریب و امیر، بچے بڑے، پیر و جواں اور مرد و عوت سب ملکر؛ جشن منا سکیں، اور اپنی زندگی سے لطف اندوز ہوسکیں۔کیونکہ یہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے۔
اسی فطری تقاضے کے باعث تمام اقوام و ملل میں عید اور تہوہار کا تصور پایا جاتاہے،انسانوں کا کوئی طبقہ اور فرقہ ایسا نہیں ہے جس میں تہوار اور جشن کے کچھ خاص دن مقرر نہ ہوں، چنانچہ تاریخ اقوام و ادیانِ عالم کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ ہر مذہب و ملت میں چند ایسے تہوار اور جشن کے دن ہوتے ہیں جن میں وہ اجتماعی طور پر اظہار مسرت کرتے ہیں اور اپنی اپنی حیثیت اور سطح کے مطابق اچھا لباس پہنتے اور عمدہ کھانے پکاتے ہیں، اور دوسرے طریقوں سے بھی اپنی اندرونی مسرت و خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔
اور اسلام چونکہ مکمل ضابط? حیات ہے_جو اپنے ماننے والے کو کبھی بھی تشنہ نہیں رہنے دیتا اور نہ ہی کسی موڑ پر تنہا چھوڑتا ہے، بلکہ؛ وہ ہر موڑ و ہر جگہ پر اپنے پیروکاروں کی مکمل راہنمائی? کرتا ہے، اور اپنے منفرد و ممتاز، حسین و دلکش، فطرت انسانی کے عین مطابق، ضوابط و قوانین کی شراب طہور سے اپنے فرمابرداروں کو سیراب کرتاہے، یہی وجہ ہے کہ مذہب اسلام میں میں بھی عید کا تصور پایا جاتاہے محض تصور ہی نہیں، بلکہ؛ جشن عید منانے کی مکمل رہنمائی اور طریقہ موجود ہے۔ یوں تو اسلام نے إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا
]الشرح 6[
(ایک دشواری کے ساتھ دو آسانیاں ہیں) کا مژدہ سناکر اور
یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اسْتَعِینُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاۃِ ? إِنَّ اللَّہَ مَعَ الصَّابِرِینَ ] البقرۃ: 153[
(اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے (مجھ سے) مدد چاہا کرو، یقیناً ا? صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے،)
ارشاد فرما کر اور اچھی بری تقدیر کے منجانب اللہ ہونے کو بتاکر اور لَئِن شَکَرْتُمْ لَأَزِیدَنَّکُمْ
]إبراہیم:7[ (اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا)
کا زریں اصول بیان فرماکر اور لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَۃِ اللَّہِ ]الزمر: 53[ (اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا)،
کی تلقین فرماکر انسانیت کو دنیا کے حزن و ملال سے آزاد فرمادیا ہے، اور ہر دن عید کی طرح پر سکون و اطمینان بخش اور خوشگوار بنادیا ہے۔ اور جگہ جگہ غربا و مساکین کی امداد کی فضیلت بیان فرماکر غرباء ومساکین کی ساتھ ہمدردی و رواداری اور باہمی الفت و محبت، اخوت و بھائی چارگی کا حکم دیکر، ان امور پر کثیر و لا تعداد انعامات و اعزازات اور اجر عظیم کا وعدہ فرمایا ہے۔ اور ہر دن بندوں پر خدائے کریم و جواد کے لطف وکرم اور جود و سخا کا ابر رحمت برستا رہتا ہے، اور ہر آن بندہ نواز رب کی جانب سے بندوں پر عنایات و نوازشات کی بارش ہوتی رہتی ہے۔
لیکن اللہ کریم نے اپنی رحمتوں اور فیاضیوں کے بحر بیکراں سے لطف وکرم اور نعمت و برکت کا دریا بہاتے ہوئے دل مؤمن میں شمع ایمانی کی لو تیز کرکے اسلامی بصیرت و فراست کو جلا بخشنے کے لئے، طراوت چمن اسلام اور تجدیدِ بہاراں کے طور پر اہل اسلام کے لیے سال میں دو دن عید الفطر (عید رمضان)اور عید الاضحی(عید قربان) قومی تہوار اور جشن عید کے مقرر فرمائے ہیں۔تاکہ؛ اہل اسلام ظاہر و باطن کی طہارت و نظافت اور نہایت عجز و انکساری کے ساتھ بارگاہ ایزدی میں بصورت دوگانہ سجد? شکر ادا کرکے اظہار بندگی کرتے ہوئے آپسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر باہمی ہمدردی و مواسات قائم رکھتے ہوئے حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کے عہد و میثاق کی تجدید کرتے ہوئے حد اعتدال میں رہ کر اپنی مسرت و شادمانی کا بھر پور اظہار کریں۔
عیدین کا آغاز و پس منظر
حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت سے جس کو امام ابو داؤد سلیمان بن الاشعث سجستانی رح نے اپنی کتاب سنن ابوداؤد میں بیان فرمایا ہے پتا چلتا ہے کہ
رسول اللہ ﷺ جب مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے تو اہلِ مدینہ دو تہوار منایا کرتے تھے اور ان میں کھیل تماشے کرتے تھے، رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ یہ دو دن جو تم مناتے ہو اس کی کیا حقیقت ہے؟ (یعنی تمہارے ان تہواروں کی کیا اصلیت ہے اور تاریخ کیا ہے؟) انہوں نے عرض کیا کہ ہم جاہلیت میں یہ تہوار اسی طرح مناتے تھے (بس وہی رواج ہے جو اب تک چل رہا ہے) { کیونکہ اس رسم قدیم میں بہت سی برائیاں اور خرابیاں تھیں، اسلیے زمان? جاہلیت کے تہوار کی اصلاح فرما تے ہوئے،فطرت انسانی کا لحاظ فرما کر} رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ” إِنَّ اللَّہَ قَدْ أَبْدَلَکُمْ بِہِمَا خَیْرًا مِنْہُمَا: یَوْمَ الْأَضْحَی، وَیَوْمَ الْفِطْرِ ”یعنی ’’اللہ نے تمہارے ان دو تہواروں کے بدلے میں ان سے بہتر دو دن تمہارے لیے مقرر کردیے ہیں، عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دن‘‘۔
]سنن أبی داود۔ رقم الحدیث 1134[
مشہور مؤرخ ابن جریر طبری کے بقول سن دوہجری میں رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو پہلی مرتبہ عید کی نماز پڑھائی۔
اس طرح دینِ اسلام میں عید الفطر اور عید الاضحی کی ابتدا ہوئی،
عیدین کی فضلیت و عظمت
عیدین کی فضلیت و اہمیت سمجھنے کے لیے یہی بات کافی ہے۔ کہ عید؛ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کو عطا کردہ ایک عظیم تحفہ ہیں جو بندوں کو جانی و مالی عبادت انجام دینے کے بعد ملتا ہے۔ نیز شارع علیہ السّلام نے زمان? جاہلیت کے کے تہواروں کو بغرض اصلاح عیدین سے تبدیل کرتے ہوئے عیدین کی بشارت دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ عیدین کو خالق قائنات نے بطور خیر امت محمدیہ کے لیے تجویز فرمایا ہے، جیسا کہ ارشاد نبوی ہے ا للَّہَ قَدْ أَبْدَلَکُمْ بِہِمَا خَیْرًا مِنْہُمَا: یَوْمَ الْأَضْحَی، وَیَوْمَ الْفِطْرِ.(” اللہ نے تمہیں ان دونوں کے عوض ان سے بہتر دو دن عطا فرما دیئے ہیں: ایک عید الاضحی کا دن اور دوسرا عید الفطر کا دن‘‘) اور جو چیز رب العالمین کی جانب سے بطور خیر مقرر و متعین ہو اس کی فضلیت و عظمت کا کیا کہنا!
ہم عید کیسے منائیں؟
عید مسرت عظمیٰ کا وہ دن ہے جس میں اظہار خوشی کے ساتھ اقرار بندگی بھی ہے۔جیساکہ عید میں دوگانہ اور فطرانہ کے حکم سے ظاہر ہے۔ لہذا عیدین کو ایسے طریقہ پر منانے کا حکم دیا گیا ہے، جس میں اظہار مسرت کے ساتھ اقرار عبودیت کا عنصر بھی شامل ہو۔
اسلامی تعلیمات میں حد اعتدال میں رہ کر احکام شرعیہ کا لحاظ کرتے ہوئے عید کے دن بھر پور اظہار مسرت و شادمانی کی نہ صرف اجازت دی گئی ہے بلکہ خوشیوں کے اظہار کی تلقین کی گئی ہے۔ عیدین کے روز کھیلنا کودنا اور اظہار مسرت و فرحت کرنا جائز و مباح ہے بشرطیکہ شریعت کے منافی نہ ہو۔
اسلیے ہماری عید اگر شریعت اسلامیہ کے مطابق ہو اور اسلامی اقدار و روایات کی پاسدار ہو تبھی وہ ہمارے حق میں عید ہے۔ ورنہ اس فانی دنیا کی فانی لذات اور چند لمحوں کی خوشی کس کام کی؟
ہماری عید اسلامی تعلیمات و ہدایات کے مطابق ہو یہی عید کی اصل خوشی اور روح عید ہے۔
شیخ عبدالقادر جیلانی رح نے غنیۃ الطالبین میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ
’’جس دن ہم سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کی نافرمانی کا کوئی کام سرزد نہ ہو ہمارے لیے وہ عید کا دن ہے۔‘‘
لہذا ہمارا عید منانا ایسے طریقہ پر ہو نہ جس سے اسلامی تہذیب و تشخص اور وقار کو ٹھیس پہنچتی ہو، اسلامی تہوار و کلچر مجروح ہوتا ہو۔
عید کو حقیقی عید منانے اور وعید سے بچنے کے لیے ضروری ہے، کہ امت مسلمہ اسلامی ہدایات و آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے، تہذیب و شرافت کے دائرہ میں رہ کر، اجتماعی طور پر اپنی خوشیوں کا اظہار کرتے ہوئے، غریبوں ناداروں،یتیموں اور بے کسوں کا سہارا بن کر، اور آپسی دشمنی کو اخوت و بھائی چارگی سے تبدیل کرکے، ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑ کر، اتحاد و اتفاق اور امن و سلامتی کا پیغام دیتے ہوئے، اپنے دلوں میں محبت و الفت کے دیپ جلا کر، تقوی و طہارت اور عبادت و ریاضت سے سرشار ہوکر عید منائیں۔
پیام عید
عید نفرت کی خلیج اور دشمنی کو دور کرکے باہمی اتحاد و اتفاق، الفت و محبت،ہمدری و غمخواری کا درس دیتی ہے۔
نیز مفاد پرستی کو مٹاکر اجتماعی طور پر خوشی منانے اور خوشیاں بانٹنے کا پیغام دیتی ہے۔
عید سے یہ بھی سبق ملتا ہے کہ عید جیسی خوشی حاصل کرنے کے لئے رمضان کی سی محنت کرنے پڑتی ہے۔ کیونکہ کہ یہ دنیا دار الاسباب ہے، یہاں ہر چیز اسباب و مسببات کی زنجیر میں جکڑی ہوئی ہے۔ اسلیے اسباب کا اختیار کرنا بہت ضروری ہے۔خوشیاں محنت و قربانی چاہتی ہے۔ عید کی خوشی بھی روزے اور قربانی کے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔
عید کا آنا اور جانا یہ بتاتا ہے کہ یہ دنیا ہے، یہاں کی ہر چیز فانی ہے، کسی شء کو بھی دوام و پایداری نہیں ہے، نہ غموں کو ٹھراؤ ہے، نہ خوشیوں کو ثبات ہے۔ عید بھی ایک دن کے لیے آتی ہے،صبح آکر شام کو رخصت ہوجاتی ہے۔ لہذا خوشیوں کے پر لطف لمحات میں اپنے جذبات پر قابو پاکر مالک حقیقی کا شکر ادا کیا جائے، فخر و غرور سے گریز کیا جائے، اور غموں کی تکلیف دہ گھڑیوں میں صبر و ضبط کا دامن تھامے رکھیں

Related posts

انسانی زندگی پر فکری سحر انگیزیوں کے اثرات 

Paigam Madre Watan

کیا مدینہ منورہ میں کافر، مشرک جاسکتے ہیں؟

Paigam Madre Watan

चुनावी रणनीति का शिकार हुई संसद

Paigam Madre Watan

Leave a Comment

türkiye nin en iyi reklam ajansları türkiye nin en iyi ajansları istanbul un en iyi reklam ajansları türkiye nin en ünlü reklam ajansları türkiyenin en büyük reklam ajansları istanbul daki reklam ajansları türkiye nin en büyük reklam ajansları türkiye reklam ajansları en büyük ajanslar