Articles مضامین

مدتو ں رویا کریں گے جا م وپیمانہ تجھے

از قلم : ڈاکٹر عبد اللہ فیصل

مولانا سالک بستوی کا سانحہءارتحال آج ۳ فروری ۲۰۲۴کو افسوسناک والمناک واقعہ پیش آیا کی وہ آج اپنے بیٹے کی رہائ کے لے تولہوا جارہے تھے ـ ان کے گاؤں سے دوکلو میٹر کے فاصلے پر ششہنیاں میں ایک بائک والے نے ٹکر ماردی اور وہ بے ہوش ہوکر گر پڑے پھر اٹھ نہ سکے، روح قفص عنصری سے پرواز کر گئ انا للہ وانا الیہ راجعون ـ اللہ موصوف کو جنت الفردوس عطا کرے مولانا ممتازعالم دین اورممتاز شاعر تھے ـ کئ کتابوں کے مصنف ومولف تفےایک اچھے خطیب وادیب تھے آپ کے کئ شعری مجمعو عے شائع ہوکر قارءین سے دادو تحسین حاصل کر چکے ہیں ـ سالک صاحب نظم میں نثر میں یکساں قدرت رکھتے تھے ـ وہ برجستہ اشعار کہتے تھے ـ
موصوف انہتائ خلیق وملنسار تھے ـآپ کی صلاحیت ولیاقت کے بارے کئ ممتاز اہل علم باوقار علمی شخصیات معترف تھے ـ ان کی نظر میں محبوب تھے ـ ہر دلعزیز ی کا عالم یہ تھا کی ان سے مختصر سی ملاقات گرویدہ ہوجاتے ـ ان کی علمی ادبی وشعری سرگرمیاں تاحیات جاری رہیں ـ
علیگڈھوا یونیورسٹی کے ادبی پروگرام میں آپ نے جو مقالہ پیش کیا تھا وہ کافی معیاری ومعلوماتی تھا . عنوان تھا "یونیورسٹی میں اردو کی آمد”
بہت بہت معلوماتی مقالہ لکھا تھا اور پڑھا تھا ـ سامعین محظو ظ ہوءے تھے ـ سالک صاحب نے اپنا کلام بھی پیش کیا تھا ـ
کچھ سال پہلے ممبئ تشرہف لائے تھے ـ تو ان کے اعزازمیں ایک شعری نششت رکھی گئ تھی ـ (اتر بھارتیہ مہاسنگھ کے صدر عبدالکریم خان صاحب کے فارم ہاؤس پر رکھا گیا تھا) اس ممبئ شہر کی علمی، سیاسی، ادبی ،وسماجی شخصیات شریک ہوئ تھیں ـ
سالک صاحب جب ممبئ آتے تو ضرور غریب خانے پر تشریف لاتے تھےـ عید کے موقع پر ضرور آتے نماز عید کے بعد کھا پی آرام کرتے تھے وہ کہتے آپ کے گھر پر سکون واطمینا ن لگتا ہے ـ اپنے گھر جیسا ماحو ل ہے ـ کوئ تکلف نہیں ـ
تین ماہ قبل میری طبیعت ناساز ہوئ تو مولانا سالک صاحب نے تسلی وتشفی دی تھی ـ اسی وقت آبائ وطن جانا ہوا تو سالک صاحب نے کہا کبوتر آپ کے لئے مفید ہے بالاخر مڑیلا سے کبوتر منگوایے ـ مہمان نوازی بھی خوب کرتے تھے ـ
کیا پتہ آخری ملاقات ہے ـ
افسوس کی اب سالک صاحب ہمارے درمیان نہیں رہے ـاللہ ان کی لغزشوں و غلطیوں کو درگزر فر ماءے اور جنتالفردوس میں جگہ دے آمین ـ
افسوس آہ سالک صاحب! !!!
مدتوں رویا کریں گے جام وپیمانہ تجھے ـ

Related posts

مطالعہ کتب کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں

Paigam Madre Watan

مولانا شمس الدین سلفی کا کتاب ”ہندوستان میں سلطنت مغلیہ کا دور “ پر تبصرہ

Paigam Madre Watan

ظلم کا خاتمہ کرنا اور انصاف قائم کرنا امت مسلمہ کی دینی ذمہ داری ہے

Paigam Madre Watan

Leave a Comment