Rashhat-E-Qalam رشحات قلم

مدرسہ انوارالعلوم

  • پرساعماد، پوسٹ ملہوارے، ضلع سدھارتھ نگر(یوپی)

  • تصنیف:مولانا عزیزالرحمن سلفی

  • ماخوذ:رشحات قلم


  • رمضان آتے ہی جب قرب وجوار کے لوگوں نے اوسان کوئیاں مدرسہ سے علاحدگی کی خبر سنی تو انوار العلوم والوں نے میرے گھر آکر اپنے مدرسہ میں تقرری کے لیے بات کرلی۔ یہ مدرسہ قریب ہی ۴؍کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے یعنی جتنی دوری پر مدرسہ مظہرالعلوم واقع تھا۔ اتنی ہی دوری اس کی بھی تھی۔ اس مدرسہ کو سیٹھ شوکت صاحب اپنے خرچ سے چلاتے تھے پہلے ان کا تعلق ریواں مدرسہ قاسم العلوم سے تھا ان کے بیش بہا تعاون سے یہ مدرسہ چلتاتھا لیکن وہاں کے منتظم سے سیٹھ شوکت کا کسی چیز کے بارے میں اختلاف ہوگیا تو انہوںنے وہاں کی اعانت بندکردی اور اپنے گائوں پرساعماد میں مدرسہ انوارالعلوم کے نام سے ایک مدرسہ قائم کرلیا۔ ابتداء میں یہاں مولانا مفتی عبدالعزیز صاحب مئو، مولانا ابوالکلام، مولانا عبدالرحیم ، ڈاکٹر محفوظ الرحمٰن (مدینہ میںداخلہ سے پہلے) پڑھاتے تھے اسٹاف کل باورچیوں کو لے کر دس ہوتا تھا۔۴۵تا۵۰طلبہ ہوتے، سب کے قیام وطعام اور اساتذہ کی تنخواہ وہی سیٹھ صاحب دیتے تھے اپنے ہی خاندان کے لوگوں کو انتظام وانصرام کی ذمہ داری دے رکھی تھی۔ کبھی کبھی ہلکی سی تبدیلی کرکے ناظم کا عہدہ انہی خاندانی لوگوں میں سے کسی کو دے دیا کرتے تھے۔ یہ خاندان کے لوگ بڑی لوٹ مچائے رکھتے تھے اپنی زائداز استعمال چیزیں مدرسہ کو دے دیتے اور اچھا خاصہ پیسے لیتے اگر کوئی چیز خراب ہوجاتی اور وہ خود اس کو استعمال نہ کرسکتے تو وہ چیزمدرسہ پرآکر استعمال کرادی جاتی۔ اور اس کا صحیح چیز کا دام لگالیاکرتے، اینٹیں، سیمنٹ ، لوہا وغیرہ لے جاکر اپنے گھر استعمال کرلیتے ۔ سیٹھ صاحب آتے تو روزانہ ایک بکرا ذبح کراتے اور خاندان میں تقسیم کروادیتے۔ مچھلی بکنے آتی اس کو بھی خرید کر گھروں میں تقسیم کروادیتے۔ وہ مدرسہ کے اندر جو افراط وتفریط ہوتی تھی اس کا سا راعلم ہونے کے باوجود بھی کچھ نہ بولتے۔ محض اپنی حفاظت اور اپنے گھر کی حفاظت کے لیے ۔ بعض مرتبہ یہ معلوم ہوا کہ چورآئے اور ان کے گھر پر چڑھ گئے تو مدرسہ پر ۴۵؍۵۰لاٹھیاں اور سولہ الماریاں اچھے چادر کی بھیجا جن میں ایک ایک ہر استاذ کو ملی تھی اس طرح اپنے گھر کی حفاظت کے لیے کرتے ۔ کبھی کبھی شال اور ہلکا کمبل بھیج دیتے تاکہ طلبہ میں تقسیم کردیے جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی دولت سے نوازا تھا اور یہ سارے اخراجات صرف شوکت سیٹھ برداشت کرتے تھے، دیگر بھائی کبھی شریک نہ ہوتے تھے۔
  • سال کی ابتداء میں جب وہاں تدریس کے لیے پہنچا تو مولانا فیض الرحمٰن صاحب فیضی مئو اور مولانا محمداحمداثری اور دیگرمدرسین موجود تھے۔ مجھے جماعت ثالثہ سے فراغت تک کی کتابیں ملیں، بیضاوی، نسائی ، ابودائود، مسلم جلد۲، دروس البلاغہ، سبع معلقہ، سراجی، کافیہ وغیرہ اہم کتابیں زیر درس تھیں۔ مدرسہ پر قیام وطعام کا انتظام تھا۔ مطالعہ کے لیے جتنی کتابیں وہاں دستیاب تھیں ان کا بھرپور مطالعہ کرتا۔ درس کے علاو ہ کوئی ٹائم مطالعہ سے خالی نہ تھا۔ موسم کے مطابق مغرب سے قبل آدھا پون گھنٹہ ساتھیوں اور دوستوں کے ساتھ ٹہلنے کے لیے نکلتا مغرب کے بعد کھانا کھانے کے علاوہ تقریباً ۱۲؍بجے رات تک مطالعہ کرتا اور اپنی سکت بھرپوری تیاری کے ساتھ درس میں بیٹھتا تھا۔ اللہ تعالیٰ میری محنت کو قبول فرمائے۔آمین
    میرے پرساعماد میںآنے کے بعد مولانا فیض الرحمٰن صاحب پرساعماد چھوڑکر مئو چلے آئے اور دوسال کے بعد مولانا محمد احمداثری بھی چھوڑ کر جامعہ اثریہ مئو منتقل ہوگئے۔ تیسرے سال ایک جگہ خالی رہی۔ تو وہاں کے ناظم نے مجھ کو صدرمدرسی کے لیے نامزد کیا مگرمیں نے انکارکردیا۔ اور کہا کہ کام میں سب کروں گا مگر عہدہ قبول نہیں کرسکتا ۔ اسی سال ندوی (مولانا محمدرئیس) صاحب کی کچھ جامعہ سلفیہ کے نائب ناظم سے کشیدگی ہوگئی ۔ ناظم صاحب شاید حج پر گئے تھے اس لیے ندوی صاحب کا معاملہ حل نہیں ہوسکا تو وہ جامعہ سلفیہ چھوڑ کر گھر چلے گئے۔ ان دنوں پرساعماد والوں نے اپنے یہاں لانے کی کوشش کی تھی مگر ابھی گفتگو کا دورہی چل رہاتھا کہ ناظم صاحب وطن واپس آگئے اور انہیں دوبارہ جامعہ سلفیہ میں بلالیا۔ اس کے بعد پرساعماد والوں نے مولانا محمدعابد رحمانی سے بات کی وہ اس وقت اپنے گھر پر ہی تھے وہ راضی ہوگئے اور پرساعماد آکر شیخ الحدیث اور صدرمدرس کا منصب سنبھال لیا۔
  • پرساعماد کی بعض یادیں:

  • ابھی پرساعماد میرے آنے کا پہلا سال تھا میں نے دیکھا کہ یہاں لائبریری غیر مرتب ہے اور اس کا کوئی رجسٹربھی نہیں ہے جس سے کتابوں کی تعداد معلوم ہو اور فنون کا پتہ چل سکے۔ نیز گم ہونے سے محفوظ رہے میں نے محنت کرکے یہاں کی لائبریری کو مرتب کیا ۔ فنون کے اعتبار سے ترتیب تو نہ ہوسکی لیکن رجسٹر میں اس کا اندراج ہوگیا۔
  • پرساعماد میں پڑھانے کا پہلا سال گزرا تو امتحان کے بعد کچھ اراکین اکٹھا ہوئے وہ سب اسی خاندان کے تھے جس کے سیٹھ صاحب تھے جو مدرسہ چلارہے تھے۔ انہوںنے اساتذہ سے کچھ وداعی باتیں کیں او رتقریباً میٹنگ اختتام کو پہنچنے والی تھی، میں نے ان سے کہا کہ آپ لوگ میٹنگ ختم کرکے جانے والے ہیں اور اساتذہ بھی سب کے سب اپنے اپنے گھر چلے جائیں گے۔ ان میں سے کون آپ کے ادارہ میں آئے گا کون نہیں آئے گا۔ اس مسئلہ پر آپ لوگوں نے کوئی بات نہیں کی۔ ہر سال کچھ نہ کچھ مدرسین کا نقصان ہوتا ہے اور کچھ ادارہ کو بھی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ میرے خیال میں اس کے لیے بہتر صورت یہ ہے کہ آپ لوگ شعبان اور رمضان کی تنخواہ بیک وقت مدرسین کو دیں اور پھر ان کے ساتھ بیٹھ کر میٹنگ کریں۔ اساتذہ بھی اپنی باتیں کھل کر کہیں اور آپ لوگ بھی اپنی بات کہیے۔ اب اس طرح رمضان کی تنخواہ مدرسین کو نہ دینے سے یہ ہوتاہے کہ ایک چالاک آدمی کسی دوسرے ادارہ میں اس سے زیادہ تنخواہ پر بات کرلیتا ہے یہاں آکر شوال میں پڑھاتاہے اور جوں رمضان اور شوال کی تنخواہ ملتی ہے آدمی یہاں سے چلاجاتاہے اس طرح کے واقعے کتنی بار آپ لوگوں کے ساتھ ہوئے ہیں؟ ان لوگوں نے کہا کہ کئی مرتبہ اس طرح کا واقعہ ہوچکاہے میں نے کہا کہ اس طرح آپ کا نقصان ہوا۔ ایک توپیسہ گیا، دوسرے آپ مدرس بھی تلاش کیجیے معلوم نہیں اچھا مدرس ملے گا بھی یا نہیںاو رمدرسہ کا نظام الگ درہم برہم ہوتاہے اور اگر مدرس نے آپ سے شعبان میں یہ کہہ دیا کہ آئندہ سال میں نہیں آئوں گا تو اس بیچارے کی ایک مہینہ کی تنخواہ ماری جائے گی کیوں کہ اس کے چلے جانے پر آپ ہرگز اس کو تنخواہ کا پیسہ نہیں دیں گے۔ اس لیے اگر آپ لوگ مدرسہ بند ہونے کے وقت دوماہ (شعبان اور رمضان) کی تنخواہ دے دیں اور صاف صاف بات کرلیں کہ آئندہ سال ہم آپ لوگوں کی تنخواہ نہیں بڑھا سکتے کچھ مجبوری ہے یا آپ لوگوں کی تنخواہ آئندہ سال ہم اتنی بڑھائیں گے آپ لوگ راضی ہیں یا نہیں؟ تو ہر شخص کھل کر جواب دے گا اور وہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون آئندہ آئے گا اور کون نہیں آئے گا ۔ آپ کو بھی مدرس تلاش کرنے کا وقت مل جاتاہے اور اس شخص کو بھی اپنی جگہ تلاش کرنے میں دشواری نہ ہوگی۔ چنانچہ ان لوگوں نے میری بات مان لی او ر چھٹی کی تنخواہ ایک ساتھ دینا شروع کردیا اور میری موجودگی میں کبھی ان کا کوئی نقصان نہ ہوا۔
    ایک مرتبہ میں عصر کے بعد کسی کام سے گیاتھا واپسی ہوئی تو تقریباعشاء کا وقت ہورہاتھا معلوم ہوا کہ ابھی طلبہ نے کھانا نہیں کھایاہے کسی نے کچھ کہہ دیا ہے اور سبھی لوگ سفارش کرچکے مگر طلبہ کھانا کھانے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ میں نے طلبہ سے کھانا نہ کھانے کی وجہ معلوم کی تو ان لوگوں نے ساری بات بتائی۔ میں نے کہا ٹھیک ہے اس مسئلہ پر بعد میں بات کی جائے گی آپ لوگ کھانا کھائیں۔ کئی مرتبہ کہنے کے باوجود طلبہ کھانا کھانے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ لوگ کھانا نہیں کھارہے ہیں تو میں بھی نہیں کھائوں گا۔ یہ کہہ کر میں اپنے کمرے میں چلاگیا کچھ دیر طلبہ نے آپس میں بات کی اور پھر کھانا کھالیا اس ڈرسے کہ اگرانہوںنے کھانا نہیں کھایا تو میں بھی کھانا نہیںکھائوں گا۔ کھانے کے بعد طلبہ میرا کھانا لے کر آئے اور بتایا کہ ہم لوگوں نے کھانا کھالیاہے اب روٹھنے کی میری باری تھی میں نے کھانے سے انکار کردیا اور کہا کہ جب میرے کہنے پر آپ لوگوں نے کھانا نہیں کھایا تو آپ لوگوں کے کہنے پر میں کیسے کھائوں؟ میں نے کئی مرتبہ آپ لوگوں سے سفارش کی مگر آپ لوگوں نے میری بات نہیں مانی۔ تو اب مجھ سے کہنے کا آپ لوگوں کو کیا حق بنتاہے؟ میں کھانا نہیں کھائوں گا آپ لوگ اپنے اپنے کمرے میں جائیے مگر طلبہ وہاں سے ہٹنے کا نام نہیں لے رہے تھے وہ بار بار اپنے اپنے طور پر کہتے رہے اور غلطی کی معافی مانگتے رہے کچھ دیر کے بعد بعض طلبہ رونے بھی لگے۔ یہ دیکھ کر میں نے بھی کھانا کھالیا۔
    اصل بات یہ ہے کہ میں جہاں بھی رہا اللہ کا شکر ہے کہ طلبہ مجھ سے بڑی محبت کرتے تھے میرا کسی سے زیادہ تعلق بھی نہ رہتا تھا اس کے باوجود میری بات مان لیتے تھے اور میں بھی ان کے آرام وتکلیف کا لحاظ رکھتا تھا یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا کرم اور احسان ہے۔
    وہاں کی تدریس کے دوران سیٹھ شوکت کے بڑے بھائی بسالت سیٹھ کی لڑکی کی شادی تھی اس وقت میرا آخری دانت نکل رہاتھا مجھے بڑا درد تھا منہ میں سوجن بھی تھی۔ اسی لیے میں اپنے کمرے میں پڑا رہا کمرے سے نکلا ہی نہیں۔ باراتیوں نے جب کھانا کھالیا (واضح رہے کہ باراتی تین سوکی تعداد میںآئے تھے جن میں دوسومسلمان تھے اور سوہندو) تو بعض کرسیاں خالی دیکھ کر کچھ طلبہ کھانے کے لیے بیٹھ گئے ان کو گائوں کے کسی شخص نے آکر اٹھادیا اور ڈانٹ کر کہا کہ ابھی باہر کے لوگ کھانے کے لیے باقی ہیں آپ لوگ پہلے ہی بیٹھ گئے آپ لو گ اٹھ جائیے۔ خیر وہ طلبہ اٹھ گئے میں نہیں جان سکا کہ کس نے کہا اور پھر طلبہ نے کھایا یا نہیں؟ میں اپنے درد ہی سے پریشان تھا۔ یہ طلبہ کو حقارت کی نظر سے دیکھنے کا ثبوت ہے۔ دوسرے روز ناشتہ تیار ہواطلبہ کو کھلانے پلانے کے لیے بلایا جارہاہے مگر کوئی طالب علم کمروں سے نکل نہیں رہاہے سارے مدرسین سے ان لوگوں نے کہہ ڈالاآخر کار کسی نے کہا کہ مولانا عزیزالرحمٰن سے جاکر کہو اگر وہ کہہ دیں گے تو لڑکے ان کی بات کا انکار نہیں کریں گے چنانچہ سیٹھ کا بڑا لڑکا میرے پاس آیا اور کہا کہ مولانا تھوڑی سی تکلیف کریں رات میں کچھ گڑ بڑی ہو گئی جس کے ناطے طلبہ ناراض ہیں اور کوئی ایک طالب علم باہر انتظام کے لیے نہیں نکل رہاہے اور ناشتہ میں دیر ہوتی جارہی ہے میں نے کہا کہ مجھے تکلیف ہے اٹھنے کی ہمت نہیں ہے کسی اور استاد سے کہہ لیجیے۔ ا س نے کہا اساتذہ کہہ چکے ہیں کسی استاد کی بات طلبہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ تو میں نے ان سے رات کا قصہ پوچھا انہوںنے سارا واقعہ بتایا اور کہا کہ مولانا ہماری عزت آپ کی عزت ہے ذرا سا تکلیف برداشت کرکے باہر چلے چلیے میں نے کہا کہ آپ لوگ طلبہ کو جانور سے بھی بدتر سمجھتے ہیں اور جب طلبہ اپنی بے عزتی محسوس کرلیں گے تو یہی ہوگا۔
  • بہرحال میں نے جاکر طلبہ کو بلایا اور ان سے کہا کہ اگر آپ لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچی تھی تو اساتذہ سے کہنا چاہیے تھا ان کو تھوڑا ونچ نیچ سمجھایا کہ مدرسوں پر رہ کر اگر باراتیوں کو تکلیف ہوگی تو گائوں اور گھروالوں کی بے عزتی سے پہلے مدرسہ، اساتذہ اور طلبہ کی بے عزتی ہوگی اس لیے آپ لوگ پھر سے انتظامات سنبھال لیں اس طرح میرے سمجھانے سے طلبہ پھر سے انتظامات میں لگ گئے۔ بارات دوشب رہی اور ماشاء اللہ کوئی خلل واقع نہ ہوا اب جب کہ سیٹھ کے بڑے لڑکے نے یہ دیکھ لیا تو ہر چیز کے لیے میرے ہی پاس آتا کئی بار دولہا کے پاس کچھ باتیں کرنے کے لیے لیکر گیا(ان کا نام عبدالقیوم تھا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کررہے تھے ، دولت مند گھرانے کے تھے، بعد میں وکالت پاس کرکے الہ آباد ہائی کورٹ میں پریکٹس کرتے ہیں وہیں بچوں کے ساتھ رہتے ہیں) جس کی وجہ سے انہوںنے یہ سمجھ لیا کہ ان کے تعلقات سیٹھ کے گھر سے بہت اچھے ہیں اس لیے اس نے بھی کئی باتیں میرے ذریعہ سیٹھ کے لڑکے تک پہنچائیں۔ حالاں کہ اس وقت تک میں نے سیٹھ کے گھر کا دروازہ بھی نہ دیکھا تھا اور نہ ہی بعد میں دیکھا اور نہ کبھی دل میں اس کی خواہش پیدا ہوئی ۔ بہرحال کسی طرح یہ کام پورا ہوا بارات وداع ہوئی اور لڑکی رخصت ہوکر اپنے گھر چلی گئی۔
    پھر سال بھر کے بعد لڑکی کو دوبارہ لینے کے لیے آئے تو لڑکے سے دوبارہ ملاقات ہوئی ناشتہ پانی کھلایاپلایا۔ دوپہر کو جب سب لوگ کھانا کھانے کے لیے گائوں میں گئے تو ہم لوگوں کو بھی بلایا ۔ دولہے نے مجھ کو کھینچ کر اپنے پاس بٹھالیا۔ کھانا لگ گیا سب لوگوں نے کھانے کے لیے کہا مگر دولہا کا ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھا۔ لوگوں نے سبب معلوم کیا تو اس نے ’’ٹوان ون ٹیپ ریکارڈر‘‘ اور کسی ایک چیز کے لیے او رکہا، لوگوں نے کہا کہ اب اس وقت ہم کہاں سے انتظام کریں پہلے سے معلوم ہوتا تو ہم خرید کر رکھتے آپ کھانا کھالیجیے بعد میںانتظام کرکے پہنچا دیا جائے گا مگر وہ نہیں مانا، کھانے سے اٹھ پڑا معلوم نہیں میں نے کچھ کھایا کہ اس کے ساتھ میں بھی اٹھ کر کھڑا ہوگیا لیکن مدرسہ پر وہ میرے ساتھ ہی آیا اور میرے کمرے میں پہنچ کر کہا کہ اب یہاں آپ جو کچھ بھی کھلائیں کھالوں گا۔ اتفاق سے روح افزا کی بوتل میرے پاس رکھی تھی میں نے اپنے لیے ابھی چند روز پیشتر خریداتھا اسی کا شربت پلایا۔ یہ یاد نہیں ہے کہ کچھ اور کھلایایا نہیں۔ شام کو پھر بارات اور لڑکی کی وداعی ہوئی لیکن اس وقت سے آج تک اس آدمی سے دوبارہ ملاقات نہ ہوسکی۔ سناہے کہ کسی کے معاملہ میں جامعہ سلفیہ آیابھی تھا لیکن نہ وہ میرے بارے میں جان سکا اور نہ ہی میں نے اس کی آمد کے بارے میں سنا۔
    ایک مرتبہ میں سوموار کی شام کو عصر کے بعد اپنے گھر چلاگیا (وہاں سے تین چار کلومیٹر کے فاصلہ پر میرا گھر واقع ہے) تاکہ گھر کی ضروریات معلوم کرلوں اور منگل بازار جاکر انتظام کردوں یہ بات واضح رہے کہ اس وقت ہفتہ واری بازار چلتا تھا او رساری ضروریات کی چیزیں وہیں دستیاب ہوسکتی تھیں معلوم نہیں کوئی دوسرا مدرس رات کو مدرسہ پر تھا یا نہیں۔ چوں کہ ہفتہ کا درمیانی حصہ تھا اس لیے ظن غالب ہے کہ دوایک آدمی ضرور رہے ہوں گے میں صبح کو ناشتہ کھا کر مدرسہ پر آیا کہ کچھ گھنٹیاں پڑھا کر بازار جائوں تاکہ بالکل مکمل ناغہ نہ ہو رات میں یہ واقعہ ہوا کہ کچھ طلبہ نے ایک آم کے درخت پر چڑھ کر آم کے کچھ پھل توڑلیے باغ والا ہندو تھا اس نے گائوں میں مدرسہ کے ذمہ داروں سے شکایت کی۔
    میںمدرسہ میں پہنچ کر ابھی اپنے کمرے میں داخل ہوا تھا کہ مدرسہ کے بوڑھے صدر جن کا نام ضلعدار تھا اسّی پچاسی سال کے رہے ہوں گے میرے پاس پہنچ گئے اورکہا کہ آپ سے ایک کام ہے وہ مجھ کو لے کر برآمدے میں آئے اور مجھے ساتھ لے کر ایک چارپائی پر بیٹھ گئے جو شمالی برآمدے میں بچھی ہوئی تھی۔ اور رات کا قصہ پورا سنایا اور کہا باغ کا مالک شکایت لے کر آیاتھا تو آپ ان طلبہ کو بلاکرتنبیہ بھی کیجیے اور سزا بھی دیجیے۔ بہرحال وہ سارے طلبہ بلائے گئے کل ملاکر دس بارہ لڑکے رہے ہوں گے میں نے ان سب سے اقرارکروالیا اور صدرصاحب سے کہا کہ آپ ہی ان کے بارے میں فیصلہ کیجیے۔ اس لیے کہ آپ مدرسہ کے صدر ہیں اور آپ کے گائوں کا ہی واقعہ ہے اور کسی استاذ کو بلاکر آپ سزا دلوادیجیے۔ مجھے بازار جانے دیجیے بہت دیر ہورہی ہے ، صدر صاحب نے کہا آپ کی محبت نے ان کو بگاڑا ہے آپ کے علاوہ کسی کو یہ سمجھتے ہی نہیںاس لیے آپ اپنے ہاتھ سے سزا دیجیے۔ ہر ایک کو دس دس چھڑی مارناہے انہوںنے کسی سے ’’بے حیا‘‘ (ایک پودا جس کی ڈالیاں بڑی بڑی ہوتی ہیں، کہیں کہیں اس کو ’’سدابہار‘‘ بھی کہتے ہیں) کئی ڈالیاں منگائی گئیں او ر مجھ ہی کو زبردستی مارنے کے لیے مجبور کیا میںنے انہی کے سامنے سارے لڑکوں کو مارا متعینہ چھڑیاں جتنی انہوںنے کہی تھیں۔ بیچ میں صدر صاحب بولے کہ جب آپ مسکرائیں گے اور ہنس ہنس کر ان کو ماریں گے تو ان کو چوٹ کیا لگے گی؟ ان کو کچھ احساس ہی نہ ہوگا۔ یہ کہہ کر وہ خود بھی ہنسنے لگے اور مجھے بھی ہنسی آگئی۔
    اب تک یعنی تین سال تک مجھے جو ذمہ داری دی جاتی تھی وہ طلبہ کی نگرانی اور چھٹی وغیرہ کی رہتی تھی تیسرے سال مولانا محمد عابدرحمانی صاحب مدرسہ میں آئے تو اپنے ایک لڑکے کو بھی پڑھنے کے لیے لیتے آئے۔ یہ لڑکا خود بھی شریر تھا اور گائوں کے سیٹھ کے لڑکوں کے ساتھ گھومتا تھا اسی طرح ایک دوسرے استاد بھی اپنے لڑکے کے ساتھ رہتے تھے جو اس سے بڑا (۱۶،۱۷سال)کا رہا ہوگا جب گائوں کے مدرسہ میں اسی گائوں کے لڑکے پڑھنے لگے توان کو قانون کا پابند بنانا بڑا مشکل کام ہوتا ہے اور اگر اس گائوںکے اساتذہ کی تعداد زیادہ ہوجائے تو سارے قانون اور قاعدے اور سارا نظام درہم برہم ہوکر رہ جاتاہے انہیںکسی طرح پابند بنایا ہی نہیں جاسکتا، اس سے پورا مدرسہ خراب ہو کر رہ جاتا ہے۔
    چوتھا سال آیا اور اساتذہ کے مابین ذمہ داریاں تقسیم کی جانے لگیں تو میں نے کسی طرح کی ذمہ داری لینے سے انکار کردیا، ناظم مدرسہ اور دوسرے لوگوں نے بہت سمجھایا مگر میں نے کسی کی بات تسلیم نہیں کی۔ آخر لوگ مجبور ہوگئے اور تمام ذمہ داریاں اساتذہ کے مابین تقسیم کردی گئیں اور مجھ سے کہا گیا کہ آپ کو فجر کی اذان کہناہے میں نے بہ سروچشم یہ ذمہ داری قبول کرلی۔ بعض بزرگ دوست اور اسٹاف کے ساتھی یہ کہہ رہے تھے کہ ابھی تویہ کام کرلے جائیں گے مگر گرمی کی چھوٹی راتوں میں پریشانی ہوجائے گی۔ لیکن اللہ کے فضل وکرم سے میں نے پورے سال یہ ذمہ داری مکمل طور پر انجام دی کبھی کوئی رخنہ حائل نہیں ہوا۔ اسٹاف میں ایک عمررسیدہ بزرگ حاجی محمد ابراہیم صاحب تھے پچاسی سے کم عمر نہ رہی ہوگی وہی پرانا قداور کاٹھی پہلے کے مڈل پاس، مڈل اسکول کے پرنسپل ہوکر ریٹائرڈ ہوئے تھے۔ معلومات بہت اونچی اور اچھی تھی بڑی اچھی اردوبولتے تھے۔ آج کل یہیں پڑھاتے تھے جب کسی پروگرام میں طلبہ اشعارپڑھتے تو وہ آہ بھر کر فرماتے دیکھو شاعر نے کتنی جان کا ہی اور عرق ریزی سے یہ اشعار لکھے ہوں گے اور یہ بچے بس یوں ہی اشعار پڑ ھ جاتے ہیں۔ ذرا سا تلفظ کا بھی لحاظ نہیں کرتے یہ بوڑھا کتنی گہرائی سے دیکھتا اور سمجھتا تھا میں جب اذان دینے لگا تو بہت متاثر ہوئے اور بار بار فرماتے یہ اذان بلالی ہے، آپ کی آواز صبح کے وقت بڑی بھلی معلوم ہوتی ہے بیچارے مجھ سے بڑی محبت رکھتے تھے اب تو ظن غالب یہ یقین ہے کہ وفات پاچکے ہوں گے اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو نور سے بھردے۔
    تیسرے سال کی تدریس کے وقت میرے پاس صحیح مسلم جلددوم آئی سال کے اخیر میں جب آخری درس کا وقت آیا جس کو پہلے ’’جشن بخاری‘‘ کہاجاتاتھا اور اب جشن فراغت یا جشن دستار فضیلت کہاجاتاہے عموماً اس میں بخاری شریف کا آخری درس ہوتاہے مگر مدرسہ انوارالعلوم میں پہلے مسلم شریف کا درس ہوتا تھا اس کے بعد بخاری شریف کا درس ہوتا اور اس کو جشن صحیحین کا نام دیا گیا۔ اس موقع پر مدرسہ کے لوگوں نے بڑے بڑے ممتاز اور چیدہ چیدہ علماء کو مدعو کیاتھا اس موقع پر خصوصی پروگرام کے تحت حلوائی کو مدرسہ بلوایا جاتا اور ایک ڈیڑھ کوئنٹل لڈو بنوایا جاتا۔ طلبہ اور عوام کو دولڈو دیے جاتے اساتذہ ،اراکین اور خصوصی مدعوئین کو خصوصی حصہ ملتا تھا۔
    میرا چونکہ پہلا سال اس درس میں حصہ لینے کا تھا بڑے بڑے علماء وخواص اور ہزاروں کی تعداد میں شرکاء کے سامنے بولنا آسان کام نہیں تھا لیکن اپنے اسٹاف سے میں نے کہا کہ آپ لوگ میرے سامنے فارغ ہونے والے طلبہ کے پیچھے بیٹھئے گا تاکہ مجھے تسلی ہو۔ چنانچہ درس کا وقت ہوا اور اپنی جگہ بیٹھا میرے دائیں اور بائیں بڑے بڑے علماء کرام تشریف فرماتھے استاذ گرامی مولانا عظیم اللہ صاحب مئوی، مولانا محمد عمر صاحب سلفی شیخ الجامعہ بونڈہار، استاذ محترم مولانا محمد عابد رحمانی، مولانا عبدالاول صاحب فیضی ریواں، مولانا ابوالعاص وحیدی وغیرہ حضرات موجود تھے۔ میںاللہ پر متوکل ہوکر درس کے لیے بیٹھا اور اللہ کا نام لے کر درس شروع کردیا ایک گھنٹہ پورا ہوا تو مولانا عظیم اللہ صاحب نے گھڑی کی طرف بڑی لطافت سے اشارہ کیا، سامنے تپائی پر گھڑی رکھی ہوئی تھی ۔۱۵؍منٹ کے بعد پھر اشارہ کیا۔ پھر پندرہ منٹ کے بعد گھڑی کے شیشے پر ہاتھ رکھ دیا میں نے سوچا اب ختم کرنا چاہیے وقت شاید میں نے زیادہ لے لیا۔ بات سمیٹتے سمیٹتے پندرہ منٹ مزید لگ گئے یعنی پونے دوگھنٹہ میں نے لیا اوراگر ذہن کی باقی ماندہ باتیں پیش کی جاتیں تو ایک گھنٹہ مزید لگ جاتا۔ میرے ختم کرنے کے بعد مولانا محمدعابد رحمانی صاحب کا درس شروع ہوا چونکہ میں نے وقت زیادہ لے لیاتھا اس لیے مولانا نے وقت کا لحاظ کرتے ہوئے پندرہ بیس منٹ کا درس دینے کے بعد درس بند کردیا مگرناراض نہیں ہوئے اسی لیے کہا جاتاہے کہ بڑے لوگوں کی باتیں بڑی ہوتی ہیں میرے اسٹاف کے ساتھی اور دوست بہت خوش تھے نشست برخاست ہوئی تو سب مرحبا اور مبارکباد کہتے ہوئے ملے۔ اللہ کا شکر اور احسان ہے کہ یہ میرا پہلا درس پورا ہوا جس نے عوام وخواص پر بڑا اچھا اثرڈالا۔ اس موقع پر میرے والد صاحب بھی وہاں درس سننے کے لیے آئے تھے وہ بھی ماشاء اللہ بہت خوش تھے۔
    پھر دوسرے سال استاذ گرامی مولانا محمدعابدرحمانی نے فرمایا کہ اس سال آخری حدیث کے لیے خواہ صحیح مسلم جلد۲ ہو یا بخاری شریف کی آخری حدیث در س نہیں ہوگا بلکہ لکھ کر تحریری شکل میں لوگوں کے سامنے پڑھا جائے اور پیش کیا جائے اور پندرہ منٹ سے زیادہ وقت نہ لے۔ چنانچہ دوسرے سال مقالہ کی شکل میں لکھ کر پیش کیا اور اتنی تیزی اور روانی سے پڑھا کہ دس منٹ میں پورا ہوگیا۔
    اوپر میں نے ذکر کیاہے کہ چوتھے سال فجر کی اذان کے علاوہ میں نے کوئی ذمہ داری نہیں لی تھی اور وہ بھی بعض طلبہ کے ڈر سے جو اساتذہ کے لڑکے تھے جن کا سیٹھ کے خاندان کے لڑکوں سے ملنا جلنا تھا اور انہی کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا اور گھومنا پھرنا تھا اسٹاف وہاں کا بہت اچھا تھا مل جل کر رہتا۔ کسی کے دل میں کسی سے کوئی کدورت نہیں تھی اور اساتذہ کا یہ میل بیوہار چاروں سال میں اسی طرح تھا اسی میل جول کی وجہ سے اساتذہ میں باہم دس پندرہ روز پر جشن ہوتا جس میں مقامی اور بیرونی اساتذہ شامل ہوتے پھر کھانا کھانے کے بعد مجلس ہوتی۔ خوش گپیاں ہوتیں اور اساتذہ اشعار سناتے کوئی اپنا ہی شعر سناتا اور کوئی دوسرے شاعر کا۔ اسی طرح تدریس میں بھی سارے اساتذہ اپنے اپنے معیار کے مطابق محنت سے پڑھاتے اس وقت ضلع بستی وضلع گونڈہ کے مدارس میں دومدرسے ایسے تھے کہ جن کا معیار تعلیم سب سے اونچا سمجھا جاتاتھا ایک مدرسہ انوارالعلوم پرسا عماد، دوسرا مدرسہ سراج العلوم بونڈہار اور کسی مدرسہ میں نہ تو اتنے باصلاحیت اساتذہ تھے ، نہ اساتذہ کے مابین اتنا اتحاد اور یگانگت تھی ۔ ہر سال جب گھنٹیاں تقسیم کی جاتیں تو ہمیشہ میری ایک گھنٹی خالی رکھی جاتی۔ چوتھے سال استاذگرامی مولانا محمدعابدرحمانی صاحب نے فرمایا کہ طلبہ کو کچھ اردو پڑھائیے بچے اردو میں بڑے کچے ہوتے ہیں کسی عبارت کا مفہوم بھی نہیں بتاسکتے۔ انہوںنے فرمایا کہ آپ کی جو گھنٹی خالی ہے اسی میں جن طلبہ کی گھنٹی خالی ہو انہی کو پڑھائیے۔ ساری جماعتیں تو ایک گھنٹی میں خالی نہیں مل سکتیں۔ میں نے دیکھا کہ جو گھنٹی خالی ہے اسی میں چوتھی جماعت خالی ہے لہٰذا میں انہی کو پڑھانے لگا۔ اور پڑھانے کے لیے کلیات اقبال کو منتخب کیا۔ میںنے اس جماعت کو سال کے اخیر تک کلیات اقبال کے اشعارپڑھ کر اس کا مفہوم بیان کیا۔ اور یہ طلبہ بڑی خوشی اور شوق سے پڑھتے رہے مگر اس گھنٹی کا امتحان نہیں ہوا۔
    اسی چوتھے سال کے دوران ایک واقعہ پیش آیا اس رات کو بھی میں مدرسہ پر نہیں تھا، گھر گیاہوا تھا صبح کو مدرسہ کے وقت پر پہنچا اور درس شروع کردیا درمیان میں کسی استاذ نے آکر ذکر کیا کہ آج کی رات میں طلبہ کی دوجماعتوں میں جھگڑاہواہے ہاتھا پائی اور مارپیٹ ہوئی ہے ۔ میں دوپہر کی چھٹی کے وقت تک پڑھا تا رہا، چھٹی کے وقت جب سارے اساتذہ کھانا پر اکٹھا ہوئے (وہاں سارے اساتذہ ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے، باورچی خود یا کوئی طالب علم کھلاتا تھا) جب میں کھانے کے لیے بیٹھنے لگا تو میں نے یہ بات اٹھائی کہ سنا ہے آج مدرسہ میں کوئی واقعہ پیش آیا ہے اس کا فیصلہ جلد کردیا جانا چاہیے ۔ کھانے کے دوران بھی ایک مرتبہ کہا اور کھانا کھانے کے بعد بھی ایک بار کہا۔ اس پر مولانا صدر صاحب نے کہا کوئی جلدی ہے؟ فیصلہ کردیا جائے گا۔ میں نے کہا کہ آج ہی اس معاملہ کا فیصلہ ہوورنہ میں مدرسہ چلنے نہ دوں گا۔ یہ کہہ کر میں اپنے کمرے میں چلاگیا۔ اس کے بعد میرے کمرے میں ناظم صاحب (مولانا محمدشفیق صاحب اسی گائوں کے باشندہ بھی تھے ناظم بھی تھے اور پڑھاتے بھی تھے یعنی کارگزار ناظم تھے، ویسے اصل ناظم ان کے چچا عبدالجلیل صاحب تھے اور بالکل ان پڑھ تھے لیکن معاملہ شناسی ان کے اندر بھی تھی)مولوی شفیق کے بعد بعض اساتذہ اور میرے کمرے میں آئے انہوںنے پورا واقعہ بیان کیا اور کہا کہ صدر صاحب (مولانا محمدعابدرحمانی صاحب استاذ محترم) کو توجیسے کسی چیزکی پرواہ ہی نہیں ہے وہ اگر چاہتے تو صبح ہی دونو ںجماعت کے طلبہ کو طلب کرکے معلوم کرلیتے اور دونوں میں مصالحت کرادیتے یا اگر دیکھتے کہ فلاں فلا ں کی زیادہ غلطی ہے تو اس کو دوچار چھڑی کی سزا بھی دے دیتے۔ میں نے کہا کہ اس قسم کا معاملہ جب وقت پائے گا تو آپس میں طلبہ کے مابین کینہ وبغض بڑھے گا اور عداوت ودشمنی پھیلے گی۔ اور اس کے بعد اس جھگڑے سے بڑا جھگڑا ہوگا۔ پورا ادارہ اس سے متاثر ہوگا آپ لوگ مولانا سے جاکر کہیے کہ اس کا فیصلہ آج ہی کردیں۔
    ان لوگوں نے مولانا سے جاکر ذکر کیا، مولانا نے ان سے کہا کہ انہی سے جاکر کہیے کہ جس طرح چاہیں فیصلہ کردیں۔ چنانچہ ان سارے طلبہ کو جنہوںنے جھگڑا میں حصہ لیاتھا سب کو بلوایا اور سارے اساتذہ کو بھی میں نے اپنے کمرے میں بلوالیا۔ اور ان سے یہ معاہدہ بھی لیا کہ آپ لوگ صرف سنیں او ر دیکھیں کہ میں کیا کہتا اور کرتا ہوں آپ لوگ درمیان میںنہ بولیں اور نہ کسی بات پر ٹوکیں۔ سب نے کہا ٹھیک ہے۔ پھر میں نے ایک چالاک طالب علم کو اپنی سائیکل اور پچاس روپیہ دیکر کہا کہ جائو ’’بھارت بھاری گائوں سے‘‘ ایک کیلومٹھائی لے آئو۔ خرما یا ٹافی ملے تو زیادہ بہتر ہے اور ذرا جلدی آنے کی کوشش کرنا۔جس گائوں میں میں نے اس طالب علم کو بھیجا تھا وہا ں کئی دکانیں تھیں اور وہاں کی مسافت ایک کیلومیٹر سے زیادہ ہی رہی ہوگی۔
    اس کے بعد کمرے میں آکر میں نے دونوں جماعت کے طلباء کو سرزنش کی ، یہ عربی کی تیسری اور چوتھی جماعت کے طلبہ تھے میرے خیال میں تیسری جماعت میں بارہ اور چوتھی جماعت میں پندرہ سولہ طلبہ رہے ہوں گے۔ میں نے زجروتوبیخ کے بعد ان کو سمجھانا شروع کیا کہ آپ لوگ اپنے گھر سے علم دین کے حصول کے لیے آئے ہیں آپ لوگوں کے والدین نے اسی خوشی میں آپ کو اپنے گھر سے دور بھیجا ہے ان کی تمنا کیا ہے اور آپ لوگ کیا عمل کررہے ہیں۔ تمام طلبہ بڑے متاثر ہوئے اور آئندہ اس طرح کا عمل نہ کرنے کا عہد کیا اتنے میں وہ لڑکا آگیا جس کو میں نے مٹھائی لینے کے لیے بھیجا تھا سارے اساتذہ تعجب کرنے لگے یہ کیا یہ مٹھائی کیسے آگئی۔ میں نے دونوں جماعتوں کے طلبہ سے کہا کہ ہر لڑکا اپنے مقابل جماعت کے لڑکے کو مٹھائی کھلائے ہر ایک دوسرے کو کھلائے اور دوسرے کے ہاتھ سے کھائے۔ اسی طرح دونوں حریف جماعتوں نے کیا۔ یعنی ایک اچھا خاصا تماشہ ہوگیا اور یہاں سے اٹھے تو ہنستے کھل کھلاتے نکلے۔ اللہ کے فضل سے یہ نزاع بغیر اپنا بیج بوئے ختم ہوگیا۔ سال کے آخر تک دونوں جماعت کے طلبہ مل جل کر رہے۔ کبھی کوئی شکایت نہ ہوئی میرے اس طرز عمل کو اساتذہ نے بھی بنظر تحسین دیکھا اور استاذ گرامی جناب مولانا محمدعابدصاحب رحمانی کو بھی بہت خوشی ہوئی کہ یہ معاملہ اتنی آسانی سے حل ہوگیا۔
    اسی سال ایک بار سیٹھ شوکت کی بڑی لڑکی جس کا نام میمونہ تھا وہ اپنے گھر پر ساعماد آئی اس کے خاندان کے لوگ اس کی ذہانت کی بڑی تعریف کرتے تھے۔ گائوں کے مولوی حضرات کہتے کہ جب وہ بولتی ہے تو ہم لوگ اس کا منہ تکتے رہ جاتے ہیں بی ، اے پا س تھی ۔ مدرسہ کے صدر جن کا تذکرہ اس سے پہلے گزرا ہے وہ اسی خاندان کے تھے۔ ان کا نام ضلعدار تھا وہ ہمارے دادا کی بڑی تعریف کرتے تھے کہ ان کا قد چھ ساڑھے چھ فٹ کا رہا ہوگا طاقت میں ان کا مقابل بہت مشکل سے مل سکتا تھا۔ یہ سب تعریفیں یہی صدر صاحب مجھ سے کیا کرتے تھے۔ بہرحال انہوںنے ادارہ کا حال اس لڑکی سے بتاکر اساتذہ کے لیے کچھ ہدایتیں لکھوائیںاور اس کی تحریر (میرے علاوہ) سارے مدرسین کے سامنے پیش کیں ان مدرسین نے مجھے ان تحریر کردہ باتوں کی اطلاع دی اور کہا کہ صدر صاحب کو اس کی ذہانت پر بڑا اعتماد اور فخر ہے ہم لوگوں کو صبح ہی سے پریشان کررکھا ہے آپ کے پاس بھی کسی وقت لے کرآئیں گے۔
    اسی دن عصر کے بعد ہم اکثرمدرسین ایک جگہ بیٹھ کر کچھ کام کررہے تھے ان میں گائوں کے اساتذہ بھی تھے صدر صاحب ہم لوگوں کے پاس پہنچے اور میرے سامنے وہ تحریر رکھ دی اور فرمایا اس کو آپ بھی پڑھ لیجیے اور ان اساتذہ کو سنادیجیے ۔ میں نے سنی ان سنی کردی ۔ اس کاغذ کو دھیرے سے ایک طرف کھسکا دیا اور کوئی توجہ نہ دی۔ صدر صاحب نے پھر اسے اٹھاکر میرے سامنے رکھ دیا اور کہا کہ آپ ان ہدایات کو خود بھی پڑھ لیں اور دوسروں کو بھی سنادیں۔ دوبارہ پھر میں نے اسے دوسری طرف سرکادیا اور اپنا کام جاری رکھا۔ تیسری بار وہ برہمی کے انداز میں بولے اور پھر وہی بات دہرائی۔ میں نے بھی بے رخی اور کڑی آواز میں ان سے کہا کہ جس تحریر کی ابتدا میں ’’بسم اللہ‘‘ نہ لکھا ہو اس کو کیسے پڑھا جائے۔ ایک مسلمان ہو کر لوگ اس طرح کاکام کرتے ہیں کہ تحریر کی ابتدا میں ’’بسم اللہ ‘‘ بھی لکھنا نہیں جانتے۔ اسی سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ انہوںنے اس کے نیچے کیا اصلاحی اور اسلامی باتیں لکھی ہوں گی۔ آپ لوگوں کو ان کی تعلیم اور ان کی ذہانت پر بڑا فخر وغرور ہے۔ لیکن یہ جان لیں کہ اگر وہ بی اے ہیں تو ہم لوگ سینکڑوں کو بی اے بناچکے ہیں اور آئندہ ان شاء اللہ مزید بنائیں گے تو ایسے لوگ جو ابھی تک طالب علم ہیں ان کی طرف سے آپ اساتذہ کے لیے ہدایات لکھواتے ہیں۔ وہ ابھی اس معیار کی نہیں ہیں کہ وہ اساتذہ کو ہدایات دے سکیں۔ پہلے ان سے کہیے کہ آکر ہم لوگوں کے سامنے شاگرد بن کر بیٹھیں۔ ابھی ان میں بہت کمی ہے پہلے وہ خود کو سنبھالیں ان شاءاللہ ہم لوگ مع جملہ اسٹاف وطلبہ خود کو سنبھال لیں گے۔
    میری یہ کڑوی اور کسیلی باتیں سن کر وہ تھوڑی دیر خاموش بیٹھے رہے پھر اٹھ کر چلے گئے ان کے جانے کے بعد پورے اسٹاف کے لوگوں نے خصوصاً گائوں کے اساتذہ نے مجھے ’’جزاک اللہ ‘‘ کہا اور سب بیک زبان بولے ’’آپ نے ہماری لاج رکھ لی۔آپ نے اس طرح کاجواب دے کر بڑا اچھا کیا ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر سے نوازے اور آپ کی فہم وفراست میں برکت دے‘‘۔ آمین
  • پان خوری کی عادت:

  • آج سے تقریباً چالیس سال پہلے دیہاتوں میں یہ طریقہ تھا کہ پان اکثروبیشتر لوگ کھاتے تھے پان کا مطلب تمباکو والا پان۔ مگر میں شوق میں پڑھانے کے لیے آتے جاتے ایک جاتے ہوئے اور ایک آنے کے وقت دوکان سے سادہ میٹھا پان کھالیا کرتا تھا مگر لوگ اس کثرت سے عادی تھے کہ آپ طرح طرح کا اچھا کھانا کھلادیجیے لیکن اگر آپ نے چائے کے بعد یا کھانے کے بعد پان نہ پیش کیا تو آپ کی مہمان نوازی میں ایسا نقص رہ گیا کہ جسے درست نہیں کیا جاسکتا تھا۔ میں بھی دیہاتی ہوں میرے یہاں احباب اور اقرباء کا آنا جانا لگارہتاتھا تو میرے لیے بھی یہ چیز ضروری تھی مگر دوکان سے جاکر پان لانے میں دشواری محسوس ہوتی تھی اس لیے میں نے گھر ہی اس کا سامان رکھ کر انتظام کرلیا تھا اب مجھے دوکان پر پان کے لیے دوڑنا نہیں پڑتا تھا اسی میں سے میں بھی بغیرعادت کھانا کھانے کے بعد صبح وشام پان کھالیا کرتا تھا۔
    جب میں پرساعماد میں بحیثیت مدرس رہنے لگا تو وہاں بھی احباب اوردوستوں کی آمد ہونے لگی۔ کبھی کبھی گائوں کا یا جوا رکا کوئی آدمی پہنچ جاتا تو اس کے لیے ایک ڈیڑھ دوکیلومیٹردور کسی طالب علم کو بھیجناپڑتا جو بڑا دشوار لگتاتھا اس لیے وہاں میں نے اسباب پان اکٹھا کرلیے اس طرح ملاقات کے لیے آنے جانے والوں کی ضیافت بھی آسانی سے ہونے لگی اور میں بھی بغیر عادت کے کبھی کبھی کھالیا کرتا تھا۔
    میرے وہاں اسٹاف میں یوں تو سارے لوگوں سے اچھے تعلقات تھے مگر ایک ڈاکٹر عبدالسبحان صاحب جو اب مرحوم ہو چکے ہیں اوسان کوئیاں کے تھے ان سے دلی لگائو تھا میرے بڑے ہمدرد تھے بیچارے یہ پڑھاتے بھی تھے اور اس کے علاوہ وقت میں پریکٹس بھی کرتے تھے ایک حکیم کے پاس رہ کر سیکھا تھا اور اچھی معلومات بنالی تھی انہی سے مجھ کو بھی کچھ دوائوں کی شدبد ہوگئی۔ علاج ایلوپیتھک ہی کا کرتے تھے اورکبھی کبھی حکیمی دوائیں بھی لکھ دیا کرتے تھے مجھ سے عمر میں کافی (تقریباً دس سال) بڑے تھے مگر تعلق دوستی کا تھا۔
    میراجو رہنے کا کمرہ تھا وہی درس گاہ بھی تھی اور مشرقی دیوار میں ایک طاقچہ پرپان کا سامان رکھا رہتا تھا کبھی کبھی وہ آکر پان بناتے خود بھی کھاتے اور مجھے بھی پڑھانے کے دوران دے دیتے مگر مجھ کو پان کھاکر بولنے میں کوئی دقت نہ ہوتی تھی نہ بولتے وقت چھینٹے اڑکر کتاب اور کپڑے پر پڑتے کوئی انجان آدمی اگر دیکھتا او رمیری آواز سنتا تو اس کا سمجھنا مشکل تھا کہ میں منہ میں پان رکھے ہوئے ہوں۔ اسی طرح بات چلتی رہی۔
    ایک مرتبہ میرے پڑھانے کے دوران وہ آئے ، پان بنایا، خود کھایا (مجھے جو گودریج کی الماری ملی تھی اس میں قدآدم شیشہ لگاہواتھا) اور ایک پان میرے عکس کو دینے لگے۔ طلبہ ہنسنے لگے تو ان کو احساس ہوا مجھے پان پکڑاکر چلے گئے۔ میں نے منہ میں ڈال لیا لیکن آج دوران درس جو ہنسی ہنگامے اور اس کی وجہ سے وقفہ ہوا تو پتہ لگاکہ اس پان میں لگتا ہے تمباکولگ گئی ہے یا غلطی سے ڈال دیا ہے۔ میں نے درس پورا کیا اور اس کے بعد ان سے جاکر پوچھا کہ آپ نے آج میرے پان میں تمباکوڈال دیاتھا تو انہوںنے پہلے توانکار کیا پھر تالی بجاکر ہنسنے لگے اور کہا کہ میں آپ کو ایک ہفتہ سے تمباکو والا پان کھلا رہاہوں مگردرس کی مشغولیت کی وجہ سے آپ کو پتہ نہ لگتا تھا آج کسی طرح آپ کو احساس ہوگیا۔ اب جب یہ بات معلوم ہوگئی تو پھر سادہ پان میں کوئی لذت ہی نہیں ملتی تھی اس لیے تھوڑی تھوڑی تمباکو کی پتیاں پان میں ڈال کر کھانا شروع کردیا تو پھر عادت بن گئی۔ اسی مدرسہ ہی پر ایک دوسرے دوست مولوی عبدالکریم سے بات ہونے لگی تو میں نے کسی بات پر یہ جملہ کہہ دیا کہ آدمی ایسی عادت کیوں بنالے کہ اس کو چھوڑہی نہ سکے انہوںنے جواب میں مجھ سے کہا کہ اگر آپ پان کھانا چھوڑدیں تو میں آپ کو ایک سوروپیہ انعام بھی دوں گا۔ میں نے ان کی یہ بات سن لی اور دل میں سوچا کہ یقینی طور پر میں پان کھانا چھوڑسکتاہوں۔ اس کے لیے مجبور نہیں ہوں اس کے ایک دودن بعد گھر گیا اور اہلیہ سے کہا کہ ایک صاحب ایسا کہہ رہے تھے تو کیا میں پان کھانا چھوڑدوں اہلیہ نے کہا : کیوں چھوڑیں گے وہ آپ کی تنہائیوں کاساتھی ہے اہلیہ کی اس بات سے ایک طرح تسلی مل گئی اس لیے پان نہیں چھوڑسکا۔
    میرے وہ دوست جنہوںنے ایسی عادت کا عادی بنایاتھا ابھی دوتین سال پہلے اللہ کو پیارے ہوگئے شام کو اچھے بچھے عشاء کی نماز پڑھ کر سوئے فجر کی نماز کے لیے نہیںاٹھے تو بچوں کو احساس ہوا کہ آج کتنی دیر سوئیںگے کسی نے آکر جگایا تود یکھا کہ وہ ہیں ہی نہیں۔ کس وقت رات میں ان کی روح جسم سے پرواز کرگئی کسی کو معلوم ہی نہ ہوسکا۔ بعد میں مجھ کو یہاں بنارس ایک دوست کے ذریعہ خبرملی میں نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا ۔ بڑاغم ہوا اللہ تعالیٰ ان کی لغزشوں کو معاف کرے اور جنت الفردوس میں جگہ دے۔ آمین۔ اور ان کے پسماندگان کو نیک راہوں پر چلائے۔ آمین
    یہ تمباکو والا پان میں کھانے تو لگا مگر اس زمانے کا یہ طریقہ تھا کہ بڑوں سے یہ ساری چیزیں چھپائی جاتی تھیں خواہ بڑے بھائی ہوں یا چچا یا والد یا کوئی دوسرا قریبی، چاہے وہ لوگ خود بھی اس بیماری میں ملوث ہوں اس وقت بڑے اور چھوٹے میں یہ فرق عام تھا۔ اس کے خلاف انہی کے سامنے یہ سارے عمل کرنے کو بدتہذیبی اوربے ادبی کے دائرہ میں شمار کیا جاتاتھا گھرمیں میری اہلیہ کو صرف اس کا علم تھا والدصاحب یا چچا وغیرہ کو اس کا علم نہیں تھا اس طرح تقریباً ۲؍سال سے زائد کا زمانہ گذرگیا ۔ کسی کو معلوم نہ ہوسکا مگر ایک بار میںاو روالد صاحب دونوں کسی کام سے ڈومریاگنج گئے تھے ۔ کیاکام تھا یہ یاد نہیں ہے مگر جب کام سے فراغت ہوئی تو دونوں ساتھ ساتھ گھرواپسی کے لیے بس اسٹینڈ کے پاس پہنچے میں نے والد صاحب سے کہا کہ آپ یہیں ٹھہریں میں اس دوکان سے پان لیکر آتاہوں ۔ پان کی دوکان پر کئی آدمی اپنی باری کا انتظار کررہے تھے میں نے اس سے دوپان کے لیے کہا ایک کالی پیلی اور ایک میں ہلکی سی پیلی پتی۔ پنواڑی سے یہ بات کہہ کر میں والد صاحب کے پاس چلاگیا کچھ دیر بات کرنے کے بعد میں پھر پان کی دوکان پر آیااور اس سے پوچھا میرے پان بنائے اس نے پوچھا کیسا رہے گا تو پھر مجھ کو بتانا پڑا اتنے میں والد صاحب میرے پاس پہنچ گئے اور پنواڑی کی بات مجھ سے جو ہوئی تھی اس کو سن کر انہوںنے پوچھا تم بھی پان میں تمباکو کھانے لگے؟ میں بہت شرمندہ ہوا اور خاموش رہا کچھ جواب نہ دیا۔ اب جب والد صاحب کو معلوم ہوگیا تو میرا بھی حیاکا حجاب دور ہوگیا اور کھلم کھلا کھانے لگا۔
    گذشتہ زمانہ میں پان شرفاء کی نشانی تھی پان کی گلوریاں بنانا بھی ایک فن سمجھاجاتاتھا لونگ اور الائچی نیز چاندی کاو رق پان کے دیگر اجزاء کے ساتھ اس کی عزت وعظمت میں اضافہ کرتا، دیہاتی عورتیں اپنے گیتوں میں اپنے محبوب کے لیے لونگ الائچی کا بیڑا بناتی تھیں دولہے کو بیاہ کے موقع پر عورتیں اپنے گیت سے یہ سکھاتی تھیں کہ سسرال سے سونے کا سروتا بھی مانگ کر لانا۔ کہتے ہیں کہ پان میں چونا اور کتھا کا اختلاط ملکہ نورجہاں کی ایجاد ہے۔ اسی طرح کمرے کے فرش پر سفید چاندنی کی ایجاد بھی اسی نے کی۔ گذشتہ علماء میں بہت سے لوگ پان کھایا کرتے تھے۔ اس کے اندر تمباکو کی آمیزش کو ناجائز نہیںکہتے تھے بلکہ ان کے نزدیک پان کا تمباکونہ مسکرہے نہ مفتر ہے۔ محدث ومفسر کبیر ، صاحب تصانیف کثیرہ، مجدد علوم دینیہ ومصلح معاشرہ نواب صدیق حسن بخاریخان حسینی قنوجی بھوپالی رحمتہ اللہ علیہ نے اس کے بارے میں حلت کا فتویٰ دیاہے او رکہا ہے کہ یہ نہ مسکر ہے نہ مفتر، اسی طرح محدث ومفسر ومجدد وقت علامہ امام شوکانی رحمتہ اللہ علیہ نے بھی یہی بات لکھی ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے سعودی سلفی علماء اسے حرام قراردیتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ اگر مسکر ومفتر نہ بھی ہو تو بھی اس کے مضرات کثیرہ اور ضیاع مال کے ناطے حرام ہے حالاں کہ وہاں ریاض میں تمباکو کھلے عام فروخت ہوتاہے او رسفری ہوٹلوں میں حقہ عام ہے۔
    بہرحال جو بھی بات صحیح ہو ایک عرصہ دراز تک اسے استعمال کرنے کے بعد میںنے اس عادت کو چھوڑدیا او رتقریبا بارہ(۱۲) سال سے زائد گذرا میں نے منہ میں پان نہیں ڈالا لیکن یکایک اس طرح چھوڑنے کی وجہ سے دانتوں کو بڑا نقصان پہنچا۔
  • قرب وجوار کے مدارس میں بحیثیت ممتحن:

  • اوسان کوئیاں اور پرساعماد کے مدرسوں میں تدریس کے دوران بحیثیت ممتحن کئی جگہ بلایا جاتارہا اور وہاں جاکر طلبہ کا امتحان لیتا رہا۔
    اپنے گائوں کے مدرسہ مفتاح العلوم میں کئی مرتبہ سالانہ امتحان کے موقع پر بلایاگیا وہاں امتحان تقریری ہوا کرتا تھا یعنی کتاب کھول کر طلبہ سے پڑھایا جاتا عبارت کا مطلب اور صرفی ونحوی قواعد پوچھے جاتے ۔ اگر قرآن یا تفسیرکی کوئی کتاب ہوتی تو آیات کا ماحصل پوچھا جاتا ۔ دیہات کے مدارس میں طلبہ کا معیار ہی کیا ہوتاہے ان ساری چیزوں کا جواب تو مشکل ہی سے مل پاتا تھا لیکن نمبردینے میںکوتاہی نہیں کی جاتی تھی۔ مظہرالعلوم اوسان کوئیاں اور انوارالعلوم پرسا عماد میں بھی یہی طریقہ مروج تھا بعض اساتذہ تو نمبرات دینے میں بڑے فیاض ہوتے خاص طور پر فارغ ہونے والے طلبہ کے لیے وہ کہتے کہ اب اس کے بعد تو بیچارہ نمبر لینے نہیں آئے گا اس لیے اس کی پوری تشنگی بجھادی جائے۔ اور پھر ایک دن طلبہ کو اکٹھا کرکے ان کا رزلٹ سنادیاجاتا اور یہ عام طور پر جشن بخاری کی شام کو جو جلسہ ہوتا تھا اسی میں سنایا جاتااور پوزیشن پانے والے ہر جماعت کے طالب علم کو اپنے معیار کے مطابق انعام بھی دیا جاتا۔
    مدرسہ دارالتوحید مینا عیدگاہ کے سالانہ امتحان میں مجھے ہرسال مدعو کیا جاتا مجھے خیال آتا ہے کہ میرے خالہ زاد محترم بھائی مولانا انعام اللہ صاحب قاسمی جب تک وہاں صدر مدرس کی حیثیت سے رہے مجھے ہرسال انہوںنے سالانہ امتحان کے لیے بلایا۔ امتحان تحریری ہوتا تھا اور عموماً چوتھی جماعت تک کے طلبہ رہتے تھے۔ وہاں جاکر پرچہ بنایاجاتا اس کا امتحان ہوتا پھر انہیں چیک کرکے نمبرات دیے جاتے ۔ دن بھر میں دوپرچے ہوتے تھے اس طرح وہاں کئی دن لگ جایاکرتا تھا امتحان ختم ہونے کے بعد ہی واپسی ہوتی تھی۔

Related posts

جامعہ سلفیہ میں تقرری

Paigam Madre Watan

ابتدائیہ

Paigam Madre Watan

رفقائے درس

Paigam Madre Watan

Leave a Comment