Education تعلیم

زمینی سطح پر کام کرنا بھی تعلیمی اداروں کی ہی ذمہ داری ہے

حیدرآباد، صحت مند انسان ہی صحت مند سوچ رکھ سکتا ہے اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نوجوانوں میں صحت مند سوچ علم و فکر کو فروغ دینے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ ان خیالات کا اظہار وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن نے کیا۔ وہ آج شعبہ ترسیل عامہ و صحافت کے زیر اہتمام شمولیت سے عمل تک کے موضوع پر منعقدہ ایک روزہ ورکشاپ میں بحیثیت مہمانِ خصوصی مخاطب تھے۔ شعبہ ¿ ترسیل عامہ و صحافت کے زیر اہتمام یونیسیف کے تعاون سے شراکت داری پراجیکٹ کے تحت اس ورکشاپ کا انعقادعمل میں آیا۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے پروفیسر عین الحسن نے کہا کہ ٹیکہ اندازی جہاں صحت مند معاشرے کے لیے ضروری وہیں تعلیمی اداروں کا بھی یہ فریضہ ہے کہ وہ سماج میں صحت کے بشمول صاف پانی، ماحولیات کا تحفظ اور صحت مند غذائی عادات کے حوالے سے بھی عوامی شعور بیدار کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ زمینی سطح پر کام کرنا بھی تعلیمی اداروں کی ہی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق قدرتی وسائل اور ماحولیات کا تحفظ کر کے ہم سب انسانوں کی زندگیوں کو محفوظ بناسکتے ہیں۔ شعبہ ترسیل عامہ و صحافت کی جانب سے سماج کے با اثر شخصیات کی شمولیت کے ذریعہ معمول کی ٹیکہ اندازی کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے منعقدہ ورکشاپ کو پروفیسر عین الحسن نے خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ مانو قومی سطح پر ایسے مزید پروگرام کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ قبل ازیں صدر و ڈین شعبہ ¿ ترسیل عامہ پروفیسر محمد فریاد نے خیر مقدمی کلمات کہے اور بتلایا کہ مانو نے یونیسیف کے تعاون سے ایک پراجیکٹ شروع کیا ہے جس کا موضوع ”نوزائیدہ بچوں کی نگہداشت اور ان کی معمول کی ٹیکہ اندازی کے فروغ میں اثر انداز ہونے والی شخصیات اور ان کا رول “ ہے۔ جس کا مقصد حیدرآباد میں با اثر شخصیات کی شمولیت کے ذریعہ معمول کی ٹیکہ اندازی کے عمل کو بہتر بنانا ہے۔ اس ضمن میں مختلف مذاہب کے رہنماﺅں کے ساتھ ساتھ سماج کے ذی اثر افراد کا یہ تربیتی ورکشاپ منعقد کیا گیا۔ پروفیسر محمد فریاد کے مطابق اس ورکشاپ کے انعقاد کے لیے یونیسیف کے علاوہ ڈبلیو ایچ او ، حکومت تلنگانہ، ماﺅنٹ فورٹ سوشیل انسٹیٹیوٹ کا تعاون حاصل کیا گیا۔
شری آر وی کرنان آئی اے ایس ،کمشنر صحت اور خاندانی بہبود، حکومت تلنگانہ نے ورکشاپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سوشیل میڈیا کے فروغ کے سبب معمول کی ٹیکہ اندازی کے عمل کے لیے چیالنجس اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ کیونکہ غیر مصدقہ اطلاعات سوشیل میڈیا کے ذریعہ بڑی تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔ انہوں نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ سوشیل میڈیا پر آنے والے کسی بھی مسیج پر اس وقت تک یقین نہ کریں جب تک اس کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہ ہو۔ آر وی کرنان آئی اے ایس نے مزید کہا کہ کویڈ کے دوران معمول کی ٹیکہ اندازی کا عمل بھی متاثر ہوا ہے۔ لیکن توقع ہے کہ سرکاری و غیر سرکاری اداروں اور سبھی مذاہب کے قائدین کے تعاون سے ٹیکہ اندازی کا عمل معمول کے مطابق ہو جائے گا۔
مولانا مفتی ضیاءالدین نقشبندی، صدر مفتی دارالافتائ، جامعہ نظامیہ نے بھی سماج کے با اثر افراد کی شمولیت کے ذریعہ حیدرآبادمیں نومولود کی دیکھ بھال میں حفاظتی ٹیکہ اندازی کو بہتر بنانے کے ورکشاپ کو مخاطب کیا۔ انہوں نے کہا کہ مذہب اسلام میں کسی طرح کے بھی علاج کی ممانعت نہیں ہے۔ بلکہ قرآن مجید میں واضح طور پر حکم دیا ہے کہ ائے لوگو اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو۔ اس کے علاوہ اسلامی تعلیمات میں نظام صحت کی اہمیت کو بھی بار بار واضح کیا گیا اور بیماری کی صورت میں علاج معالجہ کی تلقین کی گئی۔ والدین کو بچوں کی صحت کے متعلق بے توجہی پر روز محشر جواب دینا ہوگا۔ اس ضمن میں ٹیکہ اندازی یعنی ماقبل بیماری علاج کی اسلامی تعلیمات میں کہیں بھی ممانعت نہیں ہے اور نہ یہ طریقہ علاج شریعت سے متصادم ہوتا ہے۔ اس لیے یہ سبھی مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ ٹیکہ اندازی کے بشمول بیماری کی صورت میں علاج سے پرہیز نہ کریں۔ قبل ازیں پروگرام کے ابتداءمیں ڈاکٹر رنگننائی، ٹیکہ اندازی ماہر، یونیسیف، دہلی نے بھی مخاطب کیا اور کہا کہ بچوں کو آج دیا جانے والا ٹیکہ ان کے کل کو محفوظ بناتا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر اپنے آبائی ملک زمبابوے میں ٹیکہ اندازی کے حوالے سے صورت حال پر روشنی ڈالی۔ ان کے علاوہ ٹیکہ اندازی میں شہری سماجی تنظیموں کے رول پر ماﺅنٹ فورٹ سوشیل انسٹیٹیوٹ کے ڈائرکٹر برادر ورگھیز نے بھی اظہار خیال کیا۔ پروگرام کے آخر میں رجسٹرار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ڈاکٹر اشتیاق احمد نے شکریہ کے فرائض انجام دیئے اور ٹیکہ اندازی سے متعلق تربیتی ورکشاپ کے انعقاد کے لیے پروفیسر فریاد کو مبارکباد دی۔

Related posts

سی سی آر یو ایم کے ذریعہ حجامہ کے معیاری طریقہ عمل پر قومی ورکشاپ کا ا نعقاد

Paigam Madre Watan

زیتون انٹرنیشنل اکیڈمی میں سالانہ اختتامی تقریب کا انعقاد

Paigam Madre Watan

3,500 مندوبین آج بیدر شہر پہنچے،کلیان کرناٹک پہلے جمبوری کی تیاریاں مکمل

Paigam Madre Watan

Leave a Comment

türkiye nin en iyi reklam ajansları türkiye nin en iyi ajansları istanbul un en iyi reklam ajansları türkiye nin en ünlü reklam ajansları türkiyenin en büyük reklam ajansları istanbul daki reklam ajansları türkiye nin en büyük reklam ajansları türkiye reklam ajansları en büyük ajanslar