Education تعلیم

قوّالی لوگوں کو ایک تار میں جوڑنے کا کام کرتی ہے

اردو یونیورسٹی میں دکن میں قوالی کی روایت پر سمپوزیم کا انعقاد


حیدرآباد، (پی ایم ڈبلیو نیوز) صوفیاے کرام کے نزدیک سماع کے محفل میں شرکت کے لیے طلب ،عشق ،معرفت،فنا،توحید ،حیرت اور فکر و فنا جیسی خصوصیات کا ہونا لازمی ہے ۔اگر یہ صفات و خصوصیات کسی شخص کے اندر ہوں گی تب ہی وہ محفل سماع میں شریک ہو سکتا ہے ۔ قوالی و سماع کے لیے لازم ہے کہ دل ،روح ،سر اور وصل موجود ہوں تب ہی آپ سماع سن سکیں گے ۔رضا ،جمال ،جلا ل ،محبت اور قرب کو صوفیا نے سماع کا فلسفہ قرار دیا ۔ان اوصاف کے اگر آپ حامل نہیں ہیں تو آپ محفل سماع میں شرکت کے اہل نہیں ہو سکتے ۔ان خیالات کا اظہار پروفیسر سید عزیز الدین حسین، سابق ڈائرکٹر رضالائبریری رامپور نے مرکز مطالعات اردو ثقافت مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی میں منعقدہ ایک روزہ سمپوزیم بعنوان ــ’’دکن میں قوالی کی روایت اور معنویت‘‘ میں خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا کہ خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ میں برسوں یہ روایت رہی کی سماع کی محفل میں جو شخص جس جگہ بیٹھ جائے سماع کی آخرتک نہ اٹھے اور نہ ہی وہ اپنی نشست کا طریقہ بدلے ۔انہوں نے شیخ سعدی ،مولانا روم اور خسرو کے اقوال بھی پیش کیے جن میں قوالی کی معنویت کا ذکر موجود ہے ۔دکن کے ایک بزرگ سید جلال کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک محفل سماع میںامیر خسرو کے ایک شعر کی تکرار کی گئی تو ان پر ایسی وجد کی کیفیت طاری ہوئی کہ وہ خسرو کا شعر سنتے سنتے اس دنیا سے رخصت ہو گئے ۔مہمان مقرر پروفیسر نسیم الدین فریس ،سابق ڈین اسکول آف لینگویجز مانو نے اس موقع پر ہندوستان میں قوالی کی روایت پر مفصل روشنی ڈالی اور کہا کہ قوالی سے قبل صوفیا کے یہاں سماع کی روایت تھی قوالی بہت بعدمیں وجود میں آئی ۔قوالی ہندوستان کی ایجاد ہے اور امیر خسرو کو اس کا موجد قرار دیا جاتا ہے ۔سلسلہ ء قادریہ ، شطاریہ اور خصوصا ً چشتیہ سلسلے میں قوالی کو جائز قرار دیا گیا ۔دکن میں صوفی برہان الدین سماع کے بہت شوقین تھے سماع سنتے ہی وہ وجد میں آجاتے تھے ۔خواجہ بندہ نواز گیسو دراز بھی قوالی سنا کرتے تھے اور آپ سماع میں عود جلایا کرتے تھے ۔بندہ نواز کا دکن میں سماع کو فروغ دینے میں اہم رول رہا ہے ۔مہمان خصوصی ویونیسکو کے سابق ڈائرکٹر، اصغر حسین نے اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ میں نے پنڈت روی شنکر سے امریکہ میں ملاقات کی تھی ان سے گفتگو کے دوران قوالی کا ذکر آیا تو انہوں نے کہا کہ امیر خسرو نے سہ تار لکھی اور ہم نے ستار بنا لیے ۔اس موقع پر سمپوزیم کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر شگفتہ شاہین ،او ایس ڈی 1 نے کہا کہ جب مہمان مقررین مخاطب تھے تو ایسا لگ رہا تھا کہ سامعین پر روحانی کیفیت طاری ہوگئی ہے ۔اسے میں سمپوزیم کی کامیابی کی علامت تصور کرتی ہوں ۔قوالی لوگوں کو ایک تار میں جوڑنے کا کام کرتی ہے ۔پروگرام کا آغاز جناب طیب قاسمی ریسرچ اسکالر سی یو سی ایس مانو کی تلاوت قرآن سے ہوا۔ پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی ،ڈائرکٹر مرکز مطالعات ثقافت مانو نے مہمانوں کا تعارف پیش کیا اور پروگرام کی نظامت کا فریضہ انجام دیا۔ڈاکٹر احمد خان، اسوسی ایٹ پروفیسر سی یو سی ایس مانو نے مہمانوں اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔

Related posts

تصوف اور اردو شاعری دونوں کی بنیاد محبت: شمیم طارق اردو یونیورسٹی میں ’’اردو شاعری میں تصوف‘‘ پر توسیعی خطبہ

Paigam Madre Watan

مانو میں پروفیسر سید عین الحسن کے ہاتھوں لیب کا افتتاح

Paigam Madre Watan

رفاہ چیمبرآف کامرس اینڈانڈسٹری شاخ بیدر کی جانب سے ’’بزنیس میٹ‘‘ کا عظیم الشان پیمانے پر’انعقاد

Paigam Madre Watan

Leave a Comment