Articles مضامین

مسلمان ملک میں شراب پر پابندی کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے؟

کیا خیر امت ہونے کی حیثیت سے ملک کے تئیںمسلمانوں کی کوئی ذمہ داری نہیں؟


تحریر : عبدالغفار صدیقی

شراب کے نقصانات سے کون واقف نہیں ہے ۔اسلام میں اسے ’ام الخبائث‘ کہا گیا ہے ۔برادران وطن بھی ’پاپ جننی‘ کہتے ہیں ۔ دنیا کے تمام اطباء اور ڈاکٹرس کی رائے ہے کہ شراب پینے سے انسان کو مختلف امراض لاحق ہوجاتے ہیں ۔ایک تحقیق کے مطابق شراب کے مضرات ہیروئن اور کوکین سے زیادہ ہیں۔عالمی ادارہ صحت (WHO)نے کہا ہے کہ’’ شراب جسم کے لیے نقصان دہ مشروب ہے اس سے بچنا چاہیے۔ شراب کا ایسا کوئی پیمانہ نہیں ہے کہ کم پینے سے کچھ نہیں ہوگا اور زیادہ پینے سے آپ کو کچھ مسائل ہوسکتے ہیں۔‘‘ ڈبلیو ایچ او کے دی لاسینٹ پبلک ہیلتھ میں شائع آرٹیکل کے بعد لوگوں کو زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔اسٹڈی میں کہا گیا ہے کہ شراب پینے سے سات طرح کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اس میں تھروٹ کینسر، لیور کینسر، کولن کینسر، ماوتھ کینسر، بریسٹ کینسر، ایسوفیگس کینسر و دیگر شامل ہیں۔ ایسے میں یہ کہنا بالکل بھی مناسب نہیں ہے کہ تھوڑی شراب پینے سے کچھ نہیں ہوگا۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ اتنی مقدار میں ہی شراب پینی چاہیے تو کچھ نہیں ہوگا، وہ سب غلط ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق شراب پینے سے فالج اور لقوے کے خطرات میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔بیماری کے بعد علاج و معالجہ پر ایک خطیر رقم خرچ ہوتی ہے اس طرح شراب کئی جہت سے سماج کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے ۔ایک تو اس کا پینے والاجسمانی طور پر کمزور اور بیمار ہوجاتا ہے ،شراب پر پیسہ خرچ ہوتا ہے ،بیمار ہونے پر علاج پر پیسہ خرچ ہوتا ہے ،اخلاق خراب ہونے پر سماج میں جرائم میں اضافہ ہوتا ہے۔
بڑوں کے علاوہ بچوں میں بھی شراب کی لت ایک کینسر کی طرح پھیل رہی ہے ۔بھارت میں بچوں کی فلاح و بہبود کے قومی ادارے کی ایک تحقیق کے مطابق ملک میں 83فیصد بچے تمباکوکھاتے ہیں ،67فیصد بچے شراب کا نشہ کرتے ہیں،34فیصد بچے کسی سونگھنے والی شئی سے نشہ کے عادی ہیں ،میڈیسن کے ذریعہ 18فیصد اور درد دور کرنے والی دوائوں کے ذریعہ 7فیصد بچے نشہ کرتے ہیں ۔ان بچوں میں اسکول جانے والے بچے بھی شامل ہیں ۔اترپردیش کے وزیر اعلیٰ نے نشہ مکت پروگرام کی ایک تقریب میں یہ اعتراف کیا ہے کہ ریاست میں نو کروڑ نوجوان نشہ کرتے ہیں ۔آپ اندازہ لگائیے کہ جس ریاست کی کل آبادی 25کروڑ ہے اس میں نصف یعنی ساڑھے بارہ کروڑ خواتین ہیں اور ضعیف العمر افراد کی تعداد بھی خاطر خواہ ہے وہاں نو کروڑ نوجوان نشہ کرتے ہیں ۔اس کا مطلب ہے کہ یوپی کے تقریبا ً پچانوے فیصد نوجوان نشہ کے عادی ہیں ۔جس ریاست کا نوجوان اپنی جوانی نشہ میں برباد کررہا ہو اس ریاست کو کس طرح ترقی کے راستہ پر ڈالا جاسکتا ہے ۔اترپردیش ایک مثال ہے ۔ملک کی باقی ریاستوں کا بھی ایسا ہی حال ہے ۔
جسمانی نقصانات کے علاوہ شراب مخرب اخلاق بھی ہے۔شراب پینے کے بعد بیوی بچوں کو مارنے پیٹنے کے واقعات آئے دن اخبارات میں شائع ہوتے ہیں ۔یہاں تک کہ بعض اوقات شرابی اپنے بچوں کا قتل کردیتا ہے یاشراب کی لت سے عاجز آکر اہل خانہ خود کشی کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔شراب کی وجہ سے گھریلو تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے ۔بھارت میں شراب پینے سے ہر سال ڈھائی لاکھ لوگ موت کی ابدی نیند سوجاتے ہیں ۔ایک انسان کی موت پورے ایک خاندان کو بے آسرا کرجاتی ہے ۔کتنے بچے یتیم ہوجاتے ہیں ۔ کتنی ہی خواتین بیوہ ہوجاتی ہیں ۔شراب پی کر گاڑی چلانے کی وجہ سے آئے دن سڑک حادثات ہوتے رہتے ہیں۔ان حادثات میں اپاہج ہونے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔شراب سے انسانی تعلقات اور بھائی چارے میں فرق آتا ہے ۔شراب پینے کے بعد انسان اپنے ہوش میں نہیں رہتا اور اپنے دوستوں کو ہی گالیاں دینے لگتا ہے ۔شادی بیاہ کی تقریبات میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ شراب پی کر ناچنے والے بہو بیٹیو ں کو چھیڑ دیتے ہیں جس پر گولیاں تک چل جاتی ہے اور شادی کی تقریب ماتم میں بدل جاتی ہے۔
شراب اور دیگر اشیاء سے نشہ کرنے والے افراد کی بری عادت چھڑانے کے لیے بھارت سرکار نے ایک مہم شروع کی ہے ۔تقریباً272اضلاع کو ترجیحی طور پرمختص کیا گیا ہے ۔ملک بھر میںپانچ سو سے زیادہ نشہ مکتی مراکز کام کررہے ہیں ۔ڈبلیو ایچ او کے تحت عالمی تنظیمیں بھی اس کام میں پیسہ خرچ کرتی ہیں ۔ایک مرکز پر لگ بھگ ماہانہ ایک لاکھ روپیہ خرچ ہوتا ہے ،اس طرح سالانہ کروڑوں روپے نشہ چھڑانے میں خرچ کیا جاتا ہے ۔اس کے باوجود شراب پینے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے ۔
سوال یہ ہے کہ شراب کے اس قدر نقصانات کے باوجود سرکاریں اس پر پابندی کیوں نہیں لگاتیں ؟اس کا سیدھا جواب یہ ہے کہ شراب سے سرکار کو سب سے زیادہ آمدنی ہوتی ہے ۔اسی لیے شراب کی فروخت کو قانونی حیثیت حاصل ہے ۔باقاعدہ اس کے لیے محکمہ آبکاری کام کرتا ہے اور اس کا ایک وزیر ہوتا ہے ۔تمام ہوٹلوں اور ریستورانوںمیں شراب کی فراہمی کو یقینی بنایاگیا ہے ۔وہ سرکاریں جو عوام کی فلاح و بہود کا دم بھرتی ہیں انھوں نے بھی شراب پالیسی میں مزید سہولیات دی ہیں ،اب آن لائن شراب خریدی جاسکتی ہے ،کئی ریاستوں میں شراب مراکز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ۔شراب کے ٹھیکے کے لیے جو ٹینڈر لیے جاتے ہیں اس کی فیس کچھ ریاستوں میں دو لاکھ روپے ہے ۔ایک ٹھیکے کے لیے سو سے زیادہ درخواستیں موصول ہوتی ہیں اس طرح کروڑوں روپے حاصل ہوجاتے ہیں ۔شراب سے ہمارے ملک کی ریاستیں اوسطاً1700کروڑ روپے سالانہ کماتی ہیں ۔2019-20 میںاترپردیش کی آمدنی 3100کروڑ روپے سے زیادہ تھی ۔ملک میں قانونی شراب خانوں کے ساتھ ساتھ غیر قانونی ،کچی اور زہریلی شراب کے بھی ٹھکانے ہر علاقہ میں پائے جاتے ہیں جو سرکاری انتظامیہ کی ملی بھگت سے چلائے جاتے ہیں ۔
ظاہر ہے اس قدر آمدنی والے ذرائع کو کیسے بند کیا جاسکتا ہے ۔چاہے شہریوں کی جان جائے ،وہ اپاہج اور مفلوج ہوجائیں ،ان کا مستقبل برباد ہوجائے ،ان باتوں سے حکومت کا کیا لینا دینا اسے تو اپنے خزانے کی فکر ہے ۔پہلے شراب کے لائسنس دیجئے ،نقلی شراب کے ٹھیکے چلوائیے ،پھر شراب چھڑانے کے مراکز قائم کیجیے ۔شراب کے خلاف کروڑوں روپے کے اشتہارات شائع کیجیے ۔حکومت کی یہ پالیسی کسی ملک میں ترقی و خوش حالی کی کس طرح ضامن ہوسکتی ہے ؟
جن ریاستوں میں شراب پر جزوی یا مکمل پابندی ہے مثلا ً بہار ،گجرات وغیرہ وہاں بھی شراب کثرت سے استعمال ہوتی ہے ۔کیرل ملک میں شرح خواندگی میں سب سے اوپر ہے لیکن شراب پینے والوں میں بھی اس کا مقام اول ہے ۔اس کا مطلب ہے کہ محض تعلیم یافتہ ہونا ہی شراب چھوڑنے کے لیے کافی نہیں ہے ،اس کے لیے انسان کو اس کے نقصانات کا شعور بھی ہونا چاہئے۔
اسلام میں ہر قسم کا نشہ حرام ہے ۔شراب کی حرمت ہر مکتب فکر میں مسلم ہے ۔کسی بھی فرقہ و مسلک کا اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے ۔اس کے باوجود مسلمانوں میں شراب کا استعمال کثرت سے بڑھ رہا ہے ۔شادی بیاہ کی تقریبات میں نوجوان شراب پی کر اسی طرح بدمستیاں کرتے ہیں جس طرح غیر مسلم کرتے ہیں ۔مجھے اس وقت تعجب ہوا جب معلوم ہوا کہ تعزیہ کے جلوس میں شامل یا حسین کا نعرہ لگانے والے نوجوانوں نے شراب پی رکھی ہے ۔یہ شراب کسی خیر خواہ قوم کی جانب سے مفت فراہم کی گئی تھی ۔اس سے حیرت ناک اور قابل مذمت عمل یہ ہے کہ میلاد النبی ؐ کے جلوس میں بھی بعض ناعاقبت اندیش شراب پی کر نعرے لگاتے ہیں ۔شراب کے ایک ڈٖیلر نے بتایا کہ ماہ رمضان میں شراب کی فروخت متاثر ہوجاتی ہے لیکن عید کے دن دوگنی اور تین گنی شراب فروخت ہوتی ہے ۔لوگوں کی زبان سے یہ بھی سنا گیا کہ گوشت ہندوئوں نے اور شراب مسلمانوں نے مہنگی کردی ہے ۔کیا یہی دن دیکھنے کے لیے ہم نے مسلمان گھر میں جنم لیا تھااور انھیں کاموں پر خیر امت کا لقب دیا گیا تھا ۔
شراب کے بے انتہا نقصانات اور دینی اعتبار سے حرام ہونے کے باجود اس کے خلاف مہم چلانے والوں میں خیر امت اس طرح شامل نہیں ہے کہ اس کا ذکر کیا جائے ۔حضرت جی کے فضائل اعمال میں بھی اس پر کوئی باب نہیں ۔کسی مسلم تنظیم کے ایجنڈے میں اس کا ذکر نہیں ۔بڑے بڑے اجلاس اور جلوس نکالنے والی جمعیتیں اور ادارے بھی خاموشی بنائے ہوئے ہیں ۔مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ویب سائٹ پر درج اقدامات کی فہرست سے بھی یہ موضوع غائب ہے ۔مسلم مجلس مشاورت نے بھی اس کو قابل مشورہ نہیں سمجھا۔ملی کونسل کے نزدیک شاید یہ ملت کا مسئلہ ہے نہیں۔مجھے یاد نہیں پڑتا کہ ماضی قریب (گزشتہ بیس سال)میں مسلمانوں کی جانب سے نشہ کے خلاف کوئی ملک گیر مہم چلائی گئی ہو ۔کیا خیر امت ہونے کا یہ تقاضا نہیں ہے کہ ہم انسانیت کو بچانے کی فکر کریں ۔کیا یہ ہمارا اپنا مسئلہ نہیں ہے ۔کیا شراب کے نقصانات سے امت متاثر نہیں ہورہی ہے ۔اگر ایسا ہے تو علماء و ائمہ اور قومی و ملی رہنما اس پر خاموش کیوں ہیں ؟شراب پر پابندی کے لیے کوئی مہم کیوں نہیں چھیڑتے؟حکومت کے اعلیٰ ذمہ داران کو میمورنڈم کیوں نہیں دیے جاتے؟کیا یہ دین کا کام نہیں ہے ؟کیا نشہ چھڑانا عبادت نہیں ہے ؟ کیادین کا کام کرنے والوں کو سماج میں شراب کی دوکانیں اور ان دوکانوں پر قطار میں کھڑے مسلمان نظر نہیں آرہے ہیں ؟جس کے حرام ہونے پر قرآن کی آیات واضح ہیں ،جس کی حرمت پر امت کا اجماع ہے اس کے خلاف ایک تقریر بھی نہیں اور جس کی حرمت پر اختلاف رائے پایا جاتا ہے اس پر طول طویل بحثیں کی جارہی ہیں ۔
میری رائے ہے کہ مسلمانوں کی موقر تنظیموں کو ملک کے ان ایشوز پر بھی آواز اٹھانا چاہئے جو انسانیت کے لیے تباہ کن ہیں ۔اس میں شراب اور نشہ سب سے اوپر ہے ۔اگر مسلمان تنظیمیں شراب اور نشہ کے خلاف مہم چلائیں گی تو اس کام میں برادران وطن کا بھی ان کو ساتھ ملے گا اور ملکی سطح پر مسلمانوں کی خیر امت کی تصویر بھی ابھر کر سامنے آئے گی ۔یہ مسلمانوں کی دینی ذمہ داری بھی ہے اور ملک کے ایک شہری ہونے ناطے بھی ان کا اہم فریضہ ہے ۔

Related posts

ماسٹر احمد حسینؒ : کچھ یادیں کچھ باتیں

Paigam Madre Watan

عقیدہ، ایمان، تہذیب اورتمدن کی حیثیت اور اہمیت انسانی زندگی میں

Paigam Madre Watan

معمر افراد اور آج کے نوجوان

Paigam Madre Watan

Leave a Comment